உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     کشمیر کے پلوامہ میں سکیورٹی فورسز کو ملیٹنٹوں کے خلاف ملی بڑی کامیابی  

    تفصیلات کے مطابق فوج اور پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ کارواتی کے دوران ضلع پلوامہ کے تلنگام علاقے میں ملی ٹنٹوں کی جانب سے چھپایے گیے ہتھیار اور گولہ بارود تلاشی کارروائی کے دوران برآمد کیا گیا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق فوج اور پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ کارواتی کے دوران ضلع پلوامہ کے تلنگام علاقے میں ملی ٹنٹوں کی جانب سے چھپایے گیے ہتھیار اور گولہ بارود تلاشی کارروائی کے دوران برآمد کیا گیا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق فوج اور پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ کارواتی کے دوران ضلع پلوامہ کے تلنگام علاقے میں ملی ٹنٹوں کی جانب سے چھپایے گیے ہتھیار اور گولہ بارود تلاشی کارروائی کے دوران برآمد کیا گیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو ملیٹنٹوں کے خلاف ضلع پلوامہ میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق فوج اور پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف کی ایک مشترکہ کارواتی کے دوران ضلع پلوامہ کے تلنگام علاقے میں ملی ٹنٹوں کی جانب سے چھپایے گیے ہتھیار اور گولہ بارود تلاشی کارروائی کے دوران برآمد کیا گیا ہے ۔ آج اعلی الصبح فوج کی 55 راشٹریہ رایفلز اور جموں کشمیر پولیس کے اعلاوہ سی آر پی ایف کی جانب سے مشترکی طور پر ضلع پلوامہ کے تلنگام علاقے کا محاصرہ کیا گیا ۔ اور فورسز کی جانب سے علاقے میں بڈے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کردی گئ ۔

    ملی ٹنٹوں کے خلاف چلایے گیے اس آپریشن میں سیکورٹی فورسز کو اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب اُنہیں گاؤں کے نزدیک ایک پُل کے نیچے کو کُچھ مشکوک پالیتھین کا لفافہ ملا ۔ جس کے بعد سیکورٹی فورسزکے بمب ڈسپوزل اسکورڈ
    کی ٹیم کو لایا گیا ۔

    ٹیم کی جانچ پڈتال سے پالیتھین لفافے کے تھیلے سے چار پستول اور کُچھ گولیوں کے راونڈ برآمد ہوے ۔ ۔ برآمد کیے گیے چار پستول میں سے شاہین نمبر کے دو اور دو چینی ساختہ کے پستول ہے ۔ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ملی ٹنٹوں نے اس جگہ پر یہ ہتھیار چھپا رکھے تھے اور پلوامہ میں کاروایئاں انجام دینے والے تھے ۔ جوکہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ناکام ہوا۔ اس سلسلے میں اگرچہ ا بھی تک کسی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئ ہے ۔ تاہم پولیس تھانہ پلوامہ میں کیس درچ کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئ ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: