உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں خواتین کو با اختیار بنانے کی پہل، جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے تحت اٹھایا گیا یہ قدم

    جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ریاض احمد نے بلاک سنگھ پورہ پٹن میں خواتین کو با اختیار بنانے کی غرض سے تین اہم سنٹروں کا افتتاح کیا۔

    جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ریاض احمد نے بلاک سنگھ پورہ پٹن میں خواتین کو با اختیار بنانے کی غرض سے تین اہم سنٹروں کا افتتاح کیا۔

    جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ریاض احمد نے بلاک سنگھ پورہ پٹن میں خواتین کو با اختیار بنانے کی غرض سے تین اہم سنٹروں کا افتتاح کیا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ریاض احمد نے بلاک سنگھ پورہ پٹن میں خواتین کو با اختیار بنانے کی غرض سے تین اہم سنٹروں کا افتتاح کیا۔ جن میں مادر مہربان کے نام سے ٹریلرنگ سنٹر، اے ایم سی یعنی آٹو میٹک ملک کولکشن سنٹر اور زراعت کے لئے ٹریکٹر شامل ہے۔ کلسٹرلیول فیڈریشن جو کمیونٹی میں تقریباً 1500 کسانوں کو فایدہ پہنچائے گا۔ اس سے کسانوں کو سستی ٹریکٹر سروس حاصل ہوگی۔ خواتین کے لئے دوکان، کٹنگ ٹیلرنگ، کڑھائی، تلہ کا کام سکھائے جاتے ہیں، جن سے ان خواتین کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

    بلاک سنگھ پورہ میں آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اس علاقے میں دودھ کی اچھی پیداوارکے ساتھ کافی مویشی موجود ہیں، لیکن مناسب مارکیٹ میکانزم کی عدم موجودگی میں  دودھ کی پیداوار کے لئے مناسب قیمت نہیں ملتی۔ اس مشکل پر قابو پانے کے لئے، جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے تحت سنٹر کو قائم کیا گیا۔ خواتین نے سرکار کے اس اقدام کی ستائش کی۔

    جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈسمشن کے ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر ریاض احمد نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،"کلسٹر لیول فیڈریشن CLF سے کمیونٹی میں تقریباً 1500 کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔اگرچہ مشن کی طرف سے کچھ امداد فراہم کی گئی ہے تاہم کلسٹر سطح کی طرف سے فنڈنگ ​​کی گئی ہے۔ CLF نے ضروری لوازمات کے ساتھ ایک ٹریکٹر خریدا ہے جس سے موثر اور سبسڈی والے قیمتوں پر کمیونٹی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا"۔

    انہوں نے مزید کہاکہ مزکورہ علاقےکی آبادی کا بڑا حصہ زرعی سرگرمیوں سے منسلک ہے، اس طرح کسانوں کو سستی سے سستی ٹریکٹر سروس حاصل ہوگی۔ تاکہ کسانوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہوگی۔ ایک اور قدم کے تحت خواتین کے لیے دکان چلانے کے وسائل فراہم کرائے گئے۔ اس اسکیم کے تحت یہ کوشش کی جارہی ہے کہ زراعت کی اکثریت والے علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پرکچھ ایسی سرگرمیاں جیسے کٹنگ ٹیلرنگ، کڑھائی، تلہ لگانے کا کام خواتین کے ذریعج سے کروایا جاتا ہے تاکہ ایسی سرگرمیوں سے معاشی طور پرقابل اعتماد اور قابل بھروسہ بنایا جاسکے۔ اس طرح کے اقدام اور یونٹس سے خواتین اچھا منافع کماتے ہیں، جس سے ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

    جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈسمشن اسکیم کےتحت سنگھ پورہ پٹن میں خواتین پہلے سے ہی ITI پٹن میں تربیت یافتہ ہیں۔ محکمہ 40 مزید خواتین کو فیلڈ میں تربیت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔اور 2 سے 3 ماہ کی مدت میں کٹنگ، ٹیلرنگ، تلہ سوزنی وغیرہ شامل ہیں۔ سرکاری کے اس طرح کے منصوبے سےخواتین کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کی پابند ہے ایک اور اقدام کے تحت دودھ جمع کرنے کے مراکز بھی قائم کئے گئے، جن میں بلاک سنگھ پورہ میں آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے اور زراعت کے کاموں سے منسلک ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر میں خواتین کو با اختیار بنانے کی پہل، جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈس مشن کے تحت اٹھایا گیا یہ قدم

    اس علاقے میں دودھ کی اچھی پیداوار کے ساتھ کافی مویشی موجود ہیں، لیکن مناسب مارکیٹ میکانزم کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگوں کو مناسب قیمت نہیں مل پاتی ہے۔بلکہ پروڈیوسروں کو دودھ کی پیداوار کے لیے مناسب قیمت نہیں ملتی۔ اس مشکل پر قابو پانے کے لئے جموں وکشمیر رورل لائیولی ہوڈسمشن نے پورے بلاک میں 11 دودھ جمع کرنے کے مراکز قائم کیے ہیں۔ جہاں سے مختلف اداروں اور مختلف مقامات پر 12 کوئنٹل دودھ سپلائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ان AMCs کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پرکسانوں کو خالص اور غیر ملاوٹ کے دودھ کی فراہمی کے لیے تعلیم دی گئی ہے تاکہ بغیر ملاوٹ کےدودھ کی قیمت اچھی ہوگی۔افسران کاکہناہے کہ ہماری ایک ڈائری یونٹ پہلے سے ہی محکمہ کوآپریٹیو کے ساتھ بطور پروڈیوسر گروپ رجسٹرڈ ہے۔ ان سنٹروں میں کام کرنے والی خواتین نے بتایا کہ انہیں خوشی ہے کہ سرکار نے خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے انہیں روزگار کے وسائل پیدا ہوتے ہیں اور خواتین از خود اپنی ٹانگوں پر کھڑا اٹھ کے روزگار کماتے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرتےہیں ساتھ ہی دوسری خواتین کو بھی تربیت دیتے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: