உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں مولوی کی شرمناک حرکت، نابالغ بچی کی آبروریزی کرکے حاملہ کرنے کا الزام

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں ایک مولوی کی شرمناک حرکت نے ہر کسی کو شرمندہ کردیا ہے۔

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں ایک مولوی کی شرمناک حرکت نے ہر کسی کو شرمندہ کردیا ہے۔

    شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے کنزر علاقے میں ایک مولوی نے انسانیت شرمسار کردی۔ مولوی نے ایک نابالغ لڑکی کی عصمت کو تار تار کیا۔ الزام ہے مولوی نے لڑکی کو حاملہ کردیا۔ بچے کا جنم بھی ہوا اور جنم دینے کے بعد بچے کا قتل کیا اور پھر قبرستان میں دفن کردیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Baramula, India
    • Share this:
    بارہمولہ: شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے کنزر علاقے میں ایک مولوی کے ذریعہ انسانیت شرمسار کردینے کی بات سامنے آئی ہے۔ الزام ہے کہ مولوی نے ایک نابالغ لڑکی کی عصمت کو تار تار کیا۔ مولوی نے نابالغ لڑکی کے ساتھ لرزہ خیز حیوانیت یعنی لڑکی کی عصمت پر پہلے ہاتھ ڈالا اور اسے حاملہ کیا پھر بچے کا جنم ہوا، بچے کا جنم دینے کے بعد اس کا قتل کرکے دفنا دیا۔ مولوی کے اس لرزہ خیزکام نے دنیائے انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ہندواڑہ سےتعلق رکھنے والے مولوی ایاز احمد گزشتہ گیارہ برسوں سے کنزر علاقے میں امامت کر رہے تھے۔ ٹنگمرگ پولیس نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ مہینے کے انتیس اگست کو پولیس اسٹیشن کنزرکو قابل اعتماد ذرائع سے ایک اطلاع ملی کہ کچھ بچوں کو پولیس اسٹیشن کنزر کے حدود میں قبرستان کے ایک طرف ایک تازہ چھوٹا گڈھا ملا ہے اور انہیں اس بارے میں شک ہو کرگڈھے کی مٹی ہٹائی، جہاں انہیں پولیتھین بیگ میں ڈھکا ہوا ایک نوزائیدہ مردہ بچہ ملا۔ درحقیقت بچے کو وہاں کسی شخص نے اپنے جرم کو چھپانے کی غرض سے دفن کیا ہے۔

    اس معاملے کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ایف آئی آر نمبر 115/2022 U/S 315, 318/IPC پولیس اسٹیشن کنزر میں درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔پولیس نے تفتیش کے دوران نو مولود بچے کی لاش کو قانونی کارروائی کے لئے تحویل میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران تیس سالہ ایاز احمد ولد عبد الغنی میر نامی شخص کا پتہ چلا، جو ہندواڑہ کے ماگام سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ مذکورہ شخص پیشے سے امام تھا۔ یہ مولوی پچھلے گیارہ سالوں سے کنزر کے اس علاقے میں امامت کر رہا تھا۔

    مذکورہ ملزم کے بیان کے مطابق وہ گزشتہ تین سال سے اس نابالغ لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات میں مصروف تھا۔ مذکورہ مدت کے دوران وہ اکثر مذکورہ شخص سے جسمانی رابطے میں رہتا تھا، جس کی وجہ سے لڑکی حاملہ ہوگئی۔ 24 اگست کو وہ مذکورہ نابالغ لڑکی کے ساتھ ڈیلیوری کے لئے ماگام گیا، جہاں وہ ایس ڈی ایچ اسپتال ماگام میں ایک خاتون سے ملا، جس کا نام مخفی رکھا گیا۔ مذکورہ خاتون کا نام چھپا کر ساٹھ ہزار روپے کی ادائیگی پرڈیلیوری کی ذمہ داری لی گئی۔ پھر مذکورہ ملزم ایاز احمد نے نابالغ بچی کو بچے کی ڈیلیوری کے لئے اسپتال میں کام کرنے والی خاتون کے حوالے کردیا اور خاتون نے ڈیلیوری کے لئے کمسن بچی کو اپنے گھر لے گئی۔

    اسپتال میں کام کرنے والی مذکورہ خاتون کے گھر میں نابالغ لڑکی نے بچے کو جنم دیا۔ اگلی صبح یعنی 25 اگست کو مذکورہ ملزم ایاز ماگام گیا اور ماگام پل کے قریب نابالغ لڑکی سے ملا، جہاں سے وہ دونوں نابالغ لڑکی کے گاؤں آئے۔ نابالغ لڑکی کے ہاتھ میں ایک اسکول بیگ تھا، جس میں وہ ایک مردہ بچے کو اٹھائے ہوئے تھی۔ پولیس بیان کے مطابق اسی دن ملزم ایاز احمد نے دو نابالغ لڑکوں کو روک لیا اور پھر ان سے کہا کہ انہیں قبرستان میں قرآن پاک دفن کرنا ہے۔ ملزم نے پلاسٹک کا تھیلا، جس میں مردہ بچہ تھا کو قبرستان میں دفن کیا۔ دونوں لڑکوں کو پتہ نہیں تھا کہ بیگ میں کیا تھا۔

    بعد ازاں مذکورہ لڑکوں کو یہ شک ہونے لگا کہ اس مولوی نے قبرستان میں کیا دفن کیا۔ تو انہوں نے 29 اگست کو دوبارہ گڈھے کی کھدائی کی۔ قبرستان میں اس جگہ سے پولیتھین بیگ ملا جس میں انہیں ایک مردہ بچہ ملا اور آخر کار لڑکوں نے گاؤں والوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی، جنہوں نے بعد میں تھانے کو اطلاع دی۔

    پولیس نے اس معاملے کی سنجیدگی سے کارروائی کی اور تفتیش کے دوران اس کی تہہ تک پہنچ گئے۔ ملزم ایاز احمد کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہے اور اس معاملے میں مزید کچھ آنا باقی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جس خاتون نے اپنے گھر میں اس لڑکی کی ڈیلیوری کرائی، اس کے خلاف پولیس کیا کارروائی کرے گی۔ مولوی کی اس شرمناک مردہ ضمیر حرکت پر لوگوں میں شدید غم و غصہ اور ناراضگی ہے۔ ہرمہذب شخص کی گردن جھکی ہوئی ہے۔ اس مولوی نے بے غیرتی و بےحیائی کی حد کردی۔ اس کے لئے ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ جنسی استحصال کے اس معاملے نے سب کو ہلاکر رکھ دیا۔ ہر دن کہیں نہ کہیں سے بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسے مجرمین کے خلاف سخت قوانین ہونے چاہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: