உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قبر سے زندہ نکلی نومولد بچی کا سرینگر کے اسپتال میں علاج جاری، جانئے والد کی زبانی پورا واقعہ

    ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ بچی کا وزن آدھا کلو ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ حالت نازک ہے لیکن علاج کیا جارہا ہے۔ یہ درد بھری لیکن دلچسپ کہانی بانہال کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سے شروع ہوئی جہاں ان کی بچی کا جنم ہوا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی۔

    ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ بچی کا وزن آدھا کلو ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ حالت نازک ہے لیکن علاج کیا جارہا ہے۔ یہ درد بھری لیکن دلچسپ کہانی بانہال کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سے شروع ہوئی جہاں ان کی بچی کا جنم ہوا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی۔

    ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ بچی کا وزن آدھا کلو ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ حالت نازک ہے لیکن علاج کیا جارہا ہے۔ یہ درد بھری لیکن دلچسپ کہانی بانہال کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سے شروع ہوئی جہاں ان کی بچی کا جنم ہوا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی۔

    • Share this:
    جی بی پنتھ اسپتال سرینگر میں بشارت صدیق اپنی نوزائیدہ بچی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پچھلے تیس گھنٹے کے مشکلات ان کے چہرے سے صاف عیاں ہیں لیکن قبر سے واپس زندہ نکالی گئی بچی کی سانسیں چلتی دیکھ کر انھیں اطمینان کی سانس نصیب ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ بچی کا وزن آدھا کلو ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ حالت نازک ہے لیکن علاج کیا جارہا ہے۔ یہ درد بھری لیکن دلچسپ کہانی بانہال کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال سے شروع ہوئی جہاں ان کی بچی کا جنم ہوا اور انھیں یہ بتایا گیا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی۔ بانہال کے دور دراز علاقہ بنکوٹ سے تعلق رکھنے والے بشارت صادق کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حاملہ بیوی کو لیکر کل دن کو بانہال پہنچے جہاں ان کی بیوی نے ایک بچی کو جنم دیا لیکن ان کے مطابق ان کے برادر نسبتی لطیف جو وہاں پر موجود تھے انھیں بتایا گیا کہ بچی مردہ پیدا ہوئی۔

    لطیف نے بتایا کہ وہاں پر موجود اسپتال اسٹاف کی ایک ملازمہ نے انھیں اس کی اطلاع دیدی اور انھوں نے یہ بات بشارت صادق کو بتائی ۔ لطیف اور بشارت صادق نے بتایا تقریبا ایک گھنٹے کے بعد انھوں نے نوزائیدہ کو لپیٹ کر نزدیکی قبرستان میں دفن کر دیا لیکن تھوڑی دیر بعد مقامی لوگوں نے اعتراض ظاہر کیا اور انھیں نوزائیدہ کو قبر سے باہر نکال کر اپنے آبائی قبرستان میں دفن کرنے کےلئے کہا۔ بشارت صادق کا کہنا ہےکہ جب انھوں نے اس بچی کو باہر نکالا تو انھیں محسوس ہوا کہ بچی کی سانسیں چل رہی ہیں۔

    ازدواجی زندگی و دیگر گھریلوں مسائل پہنچ رہے ہیں عدالت، بچوں کی زندگی بری طرح ہورہی ہےمتاثر

     

    انھوں نے اپنے برادر نسبتی کو بُلایا اور فوری طور بچی کو واپس اسپتال لے کر گئے جہاں پر مقامی لوگوں نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور بعد میں بچی کو سری نگر کے جی بی پنتھ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    خوفناک! گزشتہ 2ماہ میں 3 اڑتے طیاروں کے انجن اچانک بند کرنے پڑے، DGCA نے شروع کی جانچ


    بلاک میڈیکل افسر بانہال سب ضلع اسپتال کے دو ملازمین کو معطل کیا اور تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں کچھ معاملے پہلے بھی ایسے کچھ معاملے پائے گئے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی نو زائیدہ کو دفن کرنے کے بعد قبر سے زندہ باہر نکالا گیا ہو وہ بھی تقریبا ایک گھنٹے کے بعد۔ بشارت اور ان کے رشتہ دار اسپتال انتظامیہ کی جانچ اور دیگر کاروائی سے مطمئن  نہیں  ہیں اور اس معاملے میں مثالی کاروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیتھ سرٹفکیٹ اور دیگر کاغذات اسپتال انتظامیہ نے چھپا لئے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: