உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمر عبداللہ نے نماز پرپابندی سے متعلق منوہر لال کھٹر کے حکم پر اٹھائے سوال، کہا- ’ایک مذہب کو بنایا جا رہا ہے نشانہ‘

    Gurugram Namaz Dispute: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے- اچھا ہوتا کہ یہ پابندی سبھی مذاہب پرعائد کی گئی ہوتی، لیکن ’پک اینڈ چوز‘ (Pick and Choose) کی پالیسی بتاتی ہے کہ نشانے پر صرف ایک مذہب ہے۔ ہمارے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ سبھی مذاہب پر عمل کرنے کی چھوٹ ہے۔ جموں وکشمیر ایک سیکولر ہندوستان میں ملا تھا نہ کہ اب کے حالات والے ہندوستان میں۔

    Gurugram Namaz Dispute: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے- اچھا ہوتا کہ یہ پابندی سبھی مذاہب پرعائد کی گئی ہوتی، لیکن ’پک اینڈ چوز‘ (Pick and Choose) کی پالیسی بتاتی ہے کہ نشانے پر صرف ایک مذہب ہے۔ ہمارے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ سبھی مذاہب پر عمل کرنے کی چھوٹ ہے۔ جموں وکشمیر ایک سیکولر ہندوستان میں ملا تھا نہ کہ اب کے حالات والے ہندوستان میں۔

    Gurugram Namaz Dispute: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے- اچھا ہوتا کہ یہ پابندی سبھی مذاہب پرعائد کی گئی ہوتی، لیکن ’پک اینڈ چوز‘ (Pick and Choose) کی پالیسی بتاتی ہے کہ نشانے پر صرف ایک مذہب ہے۔ ہمارے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ سبھی مذاہب پر عمل کرنے کی چھوٹ ہے۔ جموں وکشمیر ایک سیکولر ہندوستان میں ملا تھا نہ کہ اب کے حالات والے ہندوستان میں۔

    • Share this:
      اننت ناگ: گروگرام میں ’کھلے میں نماز‘ کو لے کر چل ہے ہنگامہ پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Manohar Lal Khattar) کے بیان پر نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ (Omar Abdullah) نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ایک مذہب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دراصل وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ایک دن پہلے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کھلے میں نماز نہیں ہونی چاہئے۔ گروگرام میں اب عوامی مقامات پر نماز نہیں ہوگی۔ اس کے لئے حکم پہلے ہی آچکا ہے۔ اسے لے کر تین ماہ سے دو فریق میں تنازعہ چل رہا تھا۔

      اس پر جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے- اچھا ہوتا کہ یہ پابندی سبھی مذاہب پرعائد کی گئی ہوتی، لیکن ’پک اینڈ چوز‘ (Pick and Choose) کی پالیسی بتاتی ہے کہ نشانے پر صرف ایک مذہب ہے۔ ہمارے ملک میں پوری آزادی کے ساتھ سبھی مذاہب پر عمل کرنے کی چھوٹ ہے۔ جموں وکشمیر ایک سیکولر ہندوستان میں ملا تھا نہ کہ اب کے حالات والے ہندوستان میں۔

      کیا بولے ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر

      منوہر لال کھٹر نے کہا تھا- کوئی اگر اپنی جگہ پر نماز پڑھتا ہے، پاٹھ پڑھتا ہے، اس میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کھلے میں ایسے پروگرام نہیں ہونا چاہئے۔ نماز پڑھنے کی یہ روایت جو کھلے میں شروع ہوئی ہے، یہ بالکل بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ ہم نے جن 37 مقامات کو کھلے میں نماز کے لئے نشان زد کیا تھا، ان تمام مقامات پر اجازت کو منسوخ کردیا گیا تھا۔ نماز کو لے کر کشیدگی نہیں ہونے دی جائے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: