உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برفباری میں پھنسی حاملہ خاتون کو اٹھا labor pain، اسپتال پہنچانا ہوا مشکل، مچا ہنگامہ

    گوہر اپنے گھر میں اچانک درد زہ میں مبتلا ہوگئی اور حالات کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے گھر والوں نے اسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن برفباری کی وجہ سے علاقے کو جانے والی رابطہ سڑک پوری طرح سے بند ہوگئی تھی اور اس پر گاڑی کا چلنا بھی مشکل تھا۔

    گوہر اپنے گھر میں اچانک درد زہ میں مبتلا ہوگئی اور حالات کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے گھر والوں نے اسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن برفباری کی وجہ سے علاقے کو جانے والی رابطہ سڑک پوری طرح سے بند ہوگئی تھی اور اس پر گاڑی کا چلنا بھی مشکل تھا۔

    گوہر اپنے گھر میں اچانک درد زہ میں مبتلا ہوگئی اور حالات کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے گھر والوں نے اسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن برفباری کی وجہ سے علاقے کو جانے والی رابطہ سڑک پوری طرح سے بند ہوگئی تھی اور اس پر گاڑی کا چلنا بھی مشکل تھا۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: مسلسل بارشوں اور برف باری کی وجہ سے کشمیر کے بالائی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے جبکہ ایسے حالات میں سب سے زیادہ لوگوں کو طبی سہولیات کے فقدان کا شدید خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ایسی ہی کہانی ہے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں رہنے والی گوہر نامی خاتون کی۔ تفصیلات کے مطابق گوہر اپنے گھر میں اچانک درد زہ میں مبتلا ہوگئی اور حالات کی سنگینی کو دیکھ کر اس کے گھر والوں نے اسے اسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن برفباری کی وجہ سے علاقے کو جانے والی رابطہ سڑک پوری طرح سے بند ہوگئی تھی اور اس پر گاڑی کا چلنا بھی مشکل تھا۔

    گاؤں کے کچھ نوجوانوں اور رشتہ داروں نے گوہر کو اسپتال پہنچانے کے لیے چارپائی کا سہارا لیا اور بڑی ہمت کا مظاہرہ کر کے برفباری میں کافی سفر طے کیا لیکن گوہر کی نازک حالت دیکھ کر مزکورہ افراد کو لگا کہ گوہر کو جلد اسپتال پہنچانا ہوگا جس کے بعد پی ایم جی ایس وائی یعنی وزیراعظم اعظم گرام سڑک یوجنا کے محکمہ سے رابطہ قائم کیا گیا۔



    محکمہ کے اسسٹنٹ ایکزیکٹیو انجینئر پیر محمد سلطان کی نگرانی میں محکمہ کے اہلکاروں نے گوہر کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا جس کے بعد ڈوزر نما ایک اسنو کلیئر مشین کی مدد سے رضاکارانہ طور پر محکمہ نے خاتون کی مدد کے لیے ایک ٹیم روانہ کی اور بہت ہی کم وقت میں ٹیم گوہر کے پاس پہنچ گئے اور اسے ڈوزر مشین میں بٹھا کر قمر شاہ آباد کے پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچایا گیا۔ جہاں پر گوہر نے ایک بچے کو جنم دیا اور اسطرح سے پی ایم جی ایس وائ کے ذریعے گوہر کی جان بچائی گئی۔

    ادھر پی ایم جی ایس وائی کی بروقت کاروائی اور مقامی رضاکاروں کی جانب سے اس بروقت کاروائی کی ہر سو ستائیش ہو رہی ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں کے لیے درکار طبی ڈھانچے کے حوالے سے سرکار کی جانب سے اٹھاۓ گۓ اقدامات پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: