உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: بڈگام میں آسمانی بجلی گرنے سے قیامت صغریٰ برپا، حادثے میں ایک نوجوان کی موت، تین افراد زخمی

    جموں وکشمیر: بڈگام میں آسمانی بجلی گرنے سے قیامت صغریٰ برپا، حادثے میں ایک نوجوان کی موت، تین افراد زخمی

    جموں وکشمیر: بڈگام میں آسمانی بجلی گرنے سے قیامت صغریٰ برپا، حادثے میں ایک نوجوان کی موت، تین افراد زخمی

    وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بیروہ پانژس میں آسمانی بجلی گرنے سے گلزار احمد خان نامی 30 سالہ نوجوان کی موت ہوگئی ہے جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔ پانژس علاقے میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ہی گھر کے کئی افراد اپنی کھیت میں دھان کی فصل کاٹنے میں مصروف تھے تو اچانک شدید بارش کے دوران آسمانی بجلی گری۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بڈگام: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے  بیروہ پانژس میں آسمانی بجلی گرنے سے گلزار احمد خان نامی 30 سالہ نوجوان کی موت ہوگئی ہےجبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔ پانژس علاقے میں  یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ہی گھر کے کئی افراد اپنی کھیت میں دھان کی فصل کاٹنے میں مصروف تھے تو اچانک شدید بارش کے دوران آسمانی بجلی گری، جس کی زد میں چار افراد آئے، جن میں 30 سالہ گلزار احمد خان کی موت واقع ہوئی اور تین دیگر زخمی ہوگئے گلزار کو اگر چہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال ماگام لایا گیا۔ تاہم یہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ زخمیوں میں سے ایک خاتون کو ماگام اسپتال سے سری نگر منتقل کیا گیا۔ دو دیگر بھی معمولی زخمی ہوگئے تھے۔ گلزار کی لاش جوں ہی اپنے آبائی گھر پانژس پہنچائی گئی وہاں صف ماتم بچھ گئی۔

    گلزار احمد خان کو بعد پر نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔ اس آسمانی آفت پر ہر طرف افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مہلوک کے ایک رشتہ دار نے نیوز 18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کشمیر میں شالی کاٹنے کا موسم ہے، اس کام میں سب لوگ مصروف عمل ہوتے ہیں۔ بیروہ کے پانژس میں بھی گلزار احمد اور ان کے گھر والے دھان کی فصل کاٹنے میں مصروف تھے، تو اسی دوران بارش کے ساتھ ساتھ آسمانی بجلی گرجنے لگی اور اچانک یہ افراد خانہ اس کی زد میں آگئے گلزار احمد خان موقع پر ہی شدید زخمی ہوگئے جبکہ تین دیگر لوگوں کو بھی معمولی چوٹیں آئیں۔

    سب ڈسٹرکٹ اسپتال ماگام میں تعینات ڈاکٹر ناہدہ نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوں ہی ان لوگوں کو یہاں لایا گیا تو ان میں گلزار احمد خان نیم مردہ حالت میں تھے۔
    سب ڈسٹرکٹ اسپتال ماگام میں تعینات ڈاکٹر ناہدہ نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوں ہی ان لوگوں کو یہاں لایا گیا تو ان میں گلزار احمد خان نیم مردہ حالت میں تھے۔


    انہوں نے کہا کہ جوں ہی چیخ و پکار کی آوازیں آئی تو سب لوگ جائے واردات کی جانب دوڑ پڑے اور انہیں بچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم گلزار احمد کے بارے میں خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ گلزار احمد کی شادی کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ سب ڈسٹرکٹ اسپتال ماگام میں تعینات ڈاکٹر ناہدہ نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جوں ہی ان لوگوں کو یہاں لایا گیا تو ان میں گلزار احمد خان نیم مردہ حالت میں تھے۔ تاہم اس کے باوجود یہاں ڈیوٹی پر تعینات سبھی ڈاکٹروں نے اس کا بھر پور علاج کیا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ دیگر لوگوں کابھی علاج کیا گیا۔ ان میں سے ایک خاتون کو سرینگر منتقل کرنا پڑا۔ ڈاکٹر ناہدہ نے کہا کہ یہ قدرتی آفت ہے اس میں کبھی کبھار شدید چوٹیں آتی ہیں، جن سے بچنا محال ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بارہمولہ کے رفیع آباد میں بھی بادل پھٹنےسے کئی لوگ ہلاک ہوگئے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس موسم میں اچانک شدید بارشیں اور آسمانی بجلی گرنا طے ہوتا ہے، جس میں اگر انسان احتیاط نہ برتے تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین بھی کہتے ہیں کہ آسمانی بجلی گرجنے کے دوران لوگوں کو کھلے آسمان رہنے سے احتیاط برتنا چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: