உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: اونتی پورہ ایمس سائٹ میں کام کر رہے تقریباً 400 مزدوروں کوکام سے نکالا گیا

    اونتی پورہ ایمس سائٹ میں کام کر رہے تقریباً 400 مزدوروں کوکام سے نکالا گیا

    اونتی پورہ ایمس سائٹ میں کام کر رہے تقریباً 400 مزدوروں کوکام سے نکالا گیا

    جموں وکشمیر کے اونتی پورہ میں آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ(AIIMS) سائٹ میں کام کر رہے سینکڑوں مزدوروں نے گزشتہ روز اونتی پورہ میں ایمس احاطے میں جمع ہو کر این سی سی کمپنی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیا اور نعرے بازی کی مظاہرین مزدور ایکتا زندہ باد اور ظلم کرنا بند کرو کے نعرے بلند کر رہے تھے۔

    • Share this:
    اونتی پورہ: جموں وکشمیر کے اونتی پورہ میں آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ(AIIMS) سائٹ میں کام کر رہے سینکڑوں مزدوروں نے گزشتہ روز اونتی پورہ میں ایمس احاطے میں جمع ہو کر این سی سی کمپنی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیا اور نعرے بازی کی مظاہرین مزدور ایکتا زندہ باد اور ظلم کرنا بند کرو کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی سنائی اور کہا کہ وہ تقریباً چار سو مزدور یہاں ایمس پر کام کر رہے ہیں، لیکن موسم سرما کی دستک کے ساتھ ہی ان کو کام سے نکالا جا رہا ہے اور اب وہ اس وقت جائیں تو جائیں کہاں؟

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ کمپنی کے عہدیداران کو دھمکی دیتے ہیں کہ جاو کہاں جانا ہے، جس کی وجہ سے اب مزدور طبقے میں تشویش پائی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انھیں کام کرنے کی اجازت دی جائے تاہم این سی سی کمپنی کے ایک عہدیدار نے مزدوروں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کو لیبر قوانین کے عین مطابق تمام تر سہولیات دی جارہی ہیں۔

    مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی سنائی اور کہا کہ وہ تقریباً چار سو مزدور یہاں ایمس پر کام کر رہے ہیں، لیکن موسم سرما کی دستک کے ساتھ ہی ان کو کام سے نکالا جا رہا ہے اور اب وہ اس وقت جائیں تو جائیں کہاں؟
    مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی سنائی اور کہا کہ وہ تقریباً چار سو مزدور یہاں ایمس پر کام کر رہے ہیں، لیکن موسم سرما کی دستک کے ساتھ ہی ان کو کام سے نکالا جا رہا ہے اور اب وہ اس وقت جائیں تو جائیں کہاں؟


    اس موقع ایک غیر ریاستی مزدور نے بتایا انہیں یہاں باہر کی ریاستوں سے لایا گیا تھا اور اس وقت کمپنی نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ کام مکمل ہونے تک ان یہاں رکھا جائے گا اور موسم سرما شروع ہونے کے ساتھ ہی انہیں یہاں کمپنی نے باہر کا راستہ دکھانا شروع کردیا ہے، جس کی وجہ سے وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے کہا لپ انہوں متعلقہ لیبر ڈپارٹمنٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

    واضح رہے کہ وادی کشمیر میں ایمس ایک بڑا پروجیکٹ ہے، جس پر پچھلے کئی سالوں سے کام چل رہا ہے، جس پر سینٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ  کام کر رہا ہے اور این سی سی کمپنی کو اس کا ٹھیکا ملا ہے جو اس پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔ امید کی جارہی ہے 2024 کے آخر میں اس کا کام مکمل کیا جائے گا۔
    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: