ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے اینٹ کے بھٹوں کے خلاف کارروائی شروع

Jammu and Kashmir News : وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام بیروہ کے مل شولہ اور سائیہ ہامہ میں سرکار کے حکم اور ڈپٹی کمشنر بڈگام کی ہدایت پر تحصیلدار بیروہ ہارون احمد کی سربراہی میں انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جارہے اینٹ بھٹوں کو منہدم کیا ۔

  • Share this:
وادی کشمیر میں غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے اینٹ کے بھٹوں کے خلاف کارروائی شروع
وادی کشمیر میں غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے اینٹ کے بھٹوں کے خلاف کارروائی شروع

بڈگام : وادی کشمیر میں غیر قانونی طور پر قائم کئے گئے اینٹ کے بھٹوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے ۔ مختلف مقامات پر انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات اور اینٹ کے بھٹوں کی انہدامی کارروائی شروع کردی ہے ۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام بیروہ کے مل شولہ اور سائیہ ہامہ میں بھی سرکار کے حکم اور ڈپٹی کمشنر بڈگام کی ہدایت پر تحصیلدار بیروہ ہارون احمد کی سربراہی میں انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جارہے اینٹ بھٹوں کو منہدم کیا ۔ مل شولہ اور سائیہ ہامہ میں یہ بھٹے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ انہدامی کارروائی کرنے جب  تحصیلدار بیروہ کی ٹیم وہاں پہنچی تو مقامی مرد وخواتین نے تعمیرات کو بچانے کے لیے مزاحمت کی ۔ تاہم تحصیلدار کے ہمراہ جموں وکشمیر پولیس کی نفری بھی تھی جنہوں نے اس مزاحمت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔


تحصیلدار بیروہ  ہارون نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ جوں ہی ان کی ٹیم نے انہدامی کارروائی شروع کی تو مقامی لوگوں نے پتھراؤ اور گھیراؤ کیا ، جس میں ان کے ایک ملازم کو بھی یرغمال بنایا گیا ۔ پولیس نے ہجوم پر لاٹھی چارج کرکے یرغمال بنائے گئے ملازم کو بچالیا ۔ تاہم ہجوم نے ملازم کو شدید زخمی کردیا تھا ، جنہیں پھر زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا ، جہاں ان کا علاج ومعالجہ کیا گیا ۔ انتظامیہ کی ٹیم نے پولیس کے ساتھ پیچھے ہٹے بغیر کارروائی کرتے ہوئے ایک جے سی بی کو اپنی تحویل میں لیا اورسارے تعمیراتی کام کو منہدم کیا ۔ پولیس اسٹیشن بیروہ میں اینٹ کے بھٹے کے مالک اور دیگر لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ۔


تحصیلدار نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی طور پر اینٹ کے بھٹے بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ تحصیلدار بیروہ نے کئی اور مقامات پر بھی غیر قانونی طور کی گئی تعمیرات کو منہدم کیا ۔


ادھر علاقہ کے سماجی وسیاسی کارکنان نے انتظامیہ کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کی ستائش کی ہے ۔ پی ڈی ایف کے اسٹیٹ سکریٹری و کالم نگار جاوید بیگ نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ اینٹ کے بھٹوں کی تعمیرات سے ماحولیاتی توازن بھگڑ جاتاہے ، جو انسانی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ کی اس کارروائی کی کافی سراہنا کی ۔

بیروہ کے آری پاتھن میں بھی اینٹ کے بھٹے کے قیام کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا ۔ آری پاتھن کے لوگوں نے نیوز18اردو کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ماحولیاتی توازن بگڑے ۔ انہوں نے ایسے زہر آلود بھٹوں کو ہٹانے کی اپیل کی ۔ ان لوگوں نے مزید کہا کہ یہاں زرعی اراضی ہیں اور اینٹ کے بھٹوں سے ان کے میوہ باغات پر کافی برا اثر پڑے گا ۔ انہوں نے سرکار کے ذریعہ ان بھٹوں کو بند کرنے کی حمایت کی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 03, 2021 10:44 PM IST