உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: جموں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مدنظر انتظامیہ متحرک

    جموں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مدنظر انتظامیہ متحرک

    جموں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے مدنظر انتظامیہ متحرک

    اومیکران ویریئنٹ کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر جموں وکشمیر کا محکمہ صحت زیادہ ہی احتیاط برت رہا ہے تاکہ یہاں کے لوگ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔ اس لئے جموں ریلوے اسٹیشن، ائیر پورٹ اور بس اسٹینڈ وغیرہ جیسے مقامات پر محکمہ صحت نے خصوصی طبی ٹیمیں تعینات کر رکھی ہیں، جو یہاں پہنچنے والے ان مسافروں کی جانچ کر رہے ہیں، جنہوں نے کووڈ مخالف ٹیکے نہیں لگوائے ہیں۔ ایسے مسافروں کو ریپڈ اینٹجنٹ ٹسٹ کئے جا رہے ہیں۔

    • Share this:
    جموں: ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہی جموں میں کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھ کر انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے۔ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے محکمہ صحت  اور دیگر متعلقہ محکموں نے کئی نئے اقدامات جاری کئے ہیں۔ اس سلسلے میں جموں ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ اور جنرل بس اسٹینڈ اور دیگر عوامی مقامات پر ٹیسٹنگ میں تیزی لائی گئی ہے اور ہر آنے جانے والے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ جموں ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے والے ان مسافروں کو اب سیکورٹی کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کی طرف سے قائم کردہ سینٹروں سے گزرکر اپنی جانچ کروانی پڑ رہی ہے، ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ جموں میں بھی کورونا کے معاملات میں گزشتہ دنوں سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

    اومیکران ویریئنٹ کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر جموں وکشمیر کا محکمہ صحت زیادہ ہی احتیاط برت رہا ہے تاکہ یہاں کے لوگ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔ اس لئے جموں ریلوے اسٹیشن، ائیر پورٹ اور بس اسٹینڈ وغیرہ جیسے مقامات پر محکمہ صحت نے خصوصی طبی ٹیمیں تعینات کر رکھی ہیں، جو یہاں پہنچنے والے ان مسافروں کی جانچ کر رہے ہیں، جنہوں نے کووڈ مخالف ٹیکے نہیں لگوائے ہیں۔ ایسے مسافروں کو ریپڈ اینٹجنٹ ٹسٹ کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف ان مسافروں کا آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کیا جارہا ہے جو باہری ممالک سے یہاں پہنچ رہے ہیں۔

    اس سلسے میں جموں خطے میں کووڈ ویکسینیشن مہم کو تیز کیا گیا ہے اور محکمہ صحت کی ٹیمیں دیہی اور شہری علاقوں میں جاکر لوگوں کو ویکسین لگواتے ہیں، جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگائے تھے، وہی ریلوے اسٹیشنوں، ایئرپورٹ اور بس اڈوں پر اس نئی پالیسی کے تحت ان تمام افراد کو اپنے ٹیکے لگوانے کی سرٹیفیکیٹ محکمہ صحت کے اہلکاروں کو دکھانی لازمی قرار دی گئی ہے، جنہوں نے کووڈ مخالف ٹیکہ لگوایا ہو۔  محکمہ صحت کے اس اقدام سے یہاں پہنچنے والے مسافر بھی حکام کو اپنا بھر پور تعاون پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف ان کے لئے بلکہ دیگر لوگوں کے لئے فائیدہ بخش ہے اور اس طرح کے اقدام سے کورونا وبا کے پھیلاو کو روکا جاسکتا ہے۔ ایک مسافر چمن لال نے نیوز 18 کو بتایا کہ اگرچہ انہوں کورونا کے دور میں کافی احتیاط سے کام لیا تھا۔ تاہم اب سب لوگوں نیی وبایی بیماری اومیکران سے بچنے کے لئے سرکاری احکامات کو اپنانا چاہئے تاکہ لوگ اس وباء سے بھی محفوظ رہیں اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے جموں و کشمیر میں بھی کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور جموں خطے میں کورونا سے متاثرہ زیادہ تر افراد کا تعلق بیرونی ریاستوں سے تھا، جو ماتا ویشنو دیوی کی یاترا پر آئے تھے۔ سرکار نے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ جو بھی شخص اپنے سفری تفصیلات چھپانے کی کوشش کرے گا اس پر 20 ہزار روپئے تک کا جُرمانہ کیا جاسکتا ہے اور بازروں میں ماسک نہ پہنے پر بھی جرمانہ ہو سکتا ہے، اس لئے سرکار نے نئے احکامات کے تحت ماسک پہنے کو لازمی قرار دیا ہے۔
    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں.
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: