உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں میں زیر تعلیم افغان طلبہ ملک کی موجودہ صورتحال پر فکرمند ، طالبان سے کی یہ خاص اپیل

    جموں میں زیر تعلیم افغانی طلبہ ملک کی موجودہ صورتحال پر فکرمند ، طالبان سے کی یہ خاص اپیل

    جموں میں زیر تعلیم افغانی طلبہ ملک کی موجودہ صورتحال پر فکرمند ، طالبان سے کی یہ خاص اپیل

    Jammu and kashmir News : اپنے ملک سے دور جموں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے افغانوں کا ایک گروہ اپنے ملک افغانستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہے ۔ وہ افغانستان میں دائمی امن اور ترقی کے لیے دعا کر رہا ہے ۔

    • Share this:
    جموں : اپنے ملک سے دور جموں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے افغانوں کا ایک گروہ اپنے ملک افغانستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہے ۔  وہ افغانستان میں دائمی امن اور ترقی کے لیے دعا کر رہا ہے ۔  انہوں نے ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات کو جاری رکھنے اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں عالمی برادری کی حمایت کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ افغانستان کی نئی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسی بھی طرح ہندوستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی کے کیمپوں کو افغان سرزمین سے کسی بھی صورت میں چلانے میں مدد نہ کرے ۔

    روح اللہ فاضلی اور افغانستان کے کئی دوسرے طلبہ تقریبا دو سالوں سے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف جموں میں زرعی سائنس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ یونیورسٹی کیمپس میں رہ رہے ہیں جب انہیں پچھلی حکومت نے تین سالہ پی ایچ ڈی کی منظوری دی تھی ۔  طالبان کے قبضہ کے بعد فضلی مسلسل اپنے خاندان کے ارکان کے ساتھ فون پر رابطے میں ہیں اور اپنے شہر کابل کے ارد گرد کی تازہ ترین معلومات حاصل کر رہے ہیں۔  نہ صرف وہ بلکہ کچھ اور پی ایچ ڈی طالب علم ایگرونومی رحمت گل اور نثار احمد بھی اپنے ملک کی موجودہ صورت حال پر انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں۔  رحمت نے دعویٰ کیا کہ ابھی حالات معمول پر ہیں ، لیکن مستقبل کی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔

    پی ایچ ڈی طالب علم رحمت گل افغانستان کے رہنے والے ہیں ۔ انہوں نے بتایا میں اپنے گھر والوں سے لگاتار رابطے میں ہوں ۔ ان کے مطابق ابھی تک سب ٹھیک طرح سے چل رہا ہے ، لیکن آنے والے وقت میں طالبان کن کن قانونوں کو ہم پر تھوپیں گے ، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

    ان تینوں افغان طلبہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے قبضہ کے بعد کابل سے فرار ہونے والی خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کے مناظر کو دیکھ کر وہ شدید پریشان اور تکلیف میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ، مستحکم اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ افغانستان چاہتے ہیں ۔ ان سب کا کہنا ہے کہ وہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد واپس افغانستان آئیں گے اور دوبارہ افغانستان کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

    پی ایچ ڈی طالب علم نثار احمد نے بتایا کہ افغانستان سے سبھی لوگ ملک چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری میں ہیں ، وہاں کے لوگ بہت ڈرے ہوئے ہیں ، ان کو لگتا ہے کہ افغان میں اب شاید ہمیں ویسی آزادی نہیں ملے گی ، جس آزادی سے ہم اب تک جی رہے تھے ۔ فی الحال طالبان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کسی پر کوئی بھی روک ٹوک نہیں لگائی جائے گی ۔ ہمارے پاس طالبان کے وعدوں کو سچ ماننے کے سِوا کوئی اور چارہ نہیں ہے ، میں اپنے لوگوں سے گزارش کرتا ہوں وہ اپنے ملک میں رہیں وہاں کی تعمیر و ترقی پر دھیان دیں ۔ طالبان سے یہ توقع ہے کہ جو وہ وعدے کر رہے ہیں ، ان وعدوں کو مستقبل میں بھی یاد رکھیں ۔

    افغانی طلبہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے افغانستان کی ترقی میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات افغانستان کے لوگوں کے مفاد میں ہے ۔  وہ یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ہندوستان اور افغانستان کے درمیان اچھے تعلقات اس کے ملک کے لوگوں کے فائدے کے لیے جاری رہیں گے ۔ وہ نئی حکومت سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کو ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں اور افغانستان میں خواتین ، اقلیتوں اور دیگر لوگوں سمیت تمام طبقات کے مفادات کے تحفظ کی کوشش کریں ۔

    افغانستان کے ایک اور طالب علم روح اللہ فاضلی نے بتایا ہم اپنے ملک سے بہت دور صرف اس لئے آئے ہیں تاکہ ہم اپنے ملک کے لئے کچھ کر سکیں ۔ ہمیں امید ہے کہ وہاں پہ تعمیر و ترقی کے کام جلد سے جلد شروع ہو ۔ تاکہ وہاں کے لوگوں کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ افغانستان میں ترقی کے کاموں میں ہندوستان سرکار کا ایک بہت بڑا ہاتھ رہا ہے ۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ آگے بھی ہندوستان افغانستان کی ترقی میں اپنا پورا تعاون دے اور طالبان سے یہ گزارش ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پر ہندوستان مخالف ایسا کوئی بھی کام نہ کرے ، جس سے افغانستان اور ہندوستان کے رشتوں میں درار آئے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: