உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں ڈیڑھ ہفتہ بعد موسم میں بہتری، پہلی دسمبر تک برفباری کا نہیں کوئی امکان

    کشمیر میں چنار کے پتوں کے آتشیں رنگ کے ساتھ ہی سرما نے دستک دے دی ہے۔

    کشمیر میں چنار کے پتوں کے آتشیں رنگ کے ساتھ ہی سرما نے دستک دے دی ہے۔

    کشمیر میں 16نومبر کے بعد پہلی بار درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر چلا گیا ہے۔ 23 نومبر کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.3ڈگری سیلشس تک چلا گیا تھا لیکن بیتی رات کم سے کم درجہ حرارت 0.3ڈگری سیلس درج کیا گیا۔

    • Share this:
    کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بیتی رات کم سے کم درجہ حرارت 0.3ڈگری سیلشس درج کیا گیا۔ وادی کے اکثر علاقوں میں بیتی رات کم سے کم درجہ حرارت مثبت ہی رہا۔ 16 نومبر کے بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ درجہ حرات نقطہ انجماد سے اوپر چلا گیا۔ 23 نومبر کو کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.3 ڈگری تک نیچے چلا گیا تھا جو اس موسم کی سرد ترین رات درج کی گئی تھی۔ حالانکہ آج بھی موسم ابر آلود ہی رہا لیکن لوگ سردی سے نجات پر پُر مسرت نظر آئے۔ ڈل جھیل میں شکارا چلانے والے عبدالرحیم نے بتایا کہ اس بار نومبر مہینے میں ہی سخت سردی محسوس کر رہے تھے اور کانگڑیاں اور گرمی کا دیگر سامان استعمال کرنا پڑتا تھا لیکن اس کے مطابق آج کانگڑی کے بغیر بھی کام کرسکتے ہیں۔

    کشمیر میں چنار کے پتوں کے آتشیں رنگ کے ساتھ ہی سرما نے دستک دے دی ہے۔ ہر طرف لوگ سرما کے سخت ایام کے لئے تیاریاں کررہے ہیں ۔ محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ پہلی دسمبر تک فی الحال برفبای کی کوئی پیش گوئی نہیں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ نومبر کی آخر تک موسم خشک رہے گا۔ کشمیر میں خزاں اپنا الگ ہی رنگ پیش کرتا ہے۔ چناروں کے پتے آتشیں رنگ پھیلا کر ایک سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں لیکن اس کے بعد سرما سخت سردی لے کر آتا ہےاور پانی کے نلکے تک منجمد ہوجاتے ہیں۔ برفباری کے بعد سردی کی لہر ذرا کم ہوجاتی ہے لیکن ۲۲دسمبر سے چلہ کلان سردی کی ایسی لہر لے کے آتا ہئے کہ ہر گیلی چیز منجمد ہوجاتی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: