உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعد اب لاؤڈ اسپیکرز کو ہٹانے کا مطالبہ جموں وکشمیر تک پہنچ گیا

    ایک اہم پیش رفت میں، جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکرکے غیر مجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔ یہ قرارداد بی جے پی کے کونسلر نروتم شرما نے پیش کی تھی۔

    ایک اہم پیش رفت میں، جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکرکے غیر مجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔ یہ قرارداد بی جے پی کے کونسلر نروتم شرما نے پیش کی تھی۔

    ایک اہم پیش رفت میں، جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکرکے غیر مجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔ یہ قرارداد بی جے پی کے کونسلر نروتم شرما نے پیش کی تھی۔

    • Share this:
    جموں: ایک اہم پیش رفت میں، جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکرکے غیر مجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔ یہ قرارداد بی جے پی کے کونسلر نروتم شرما نے پیش کی تھی۔ نروتم شرما بی جے پی کونسلر جے ایم سی جموں نے کہا،"یہ قرارداد کانگریس اور دیگر اپوزیشن کونسلروں کی سخت مخالفت کے درمیان منظور کی گئی، جنہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے مذہبی مسائل کو اٹھا رہی ہے۔"

    مہاراشٹر اور کرناٹک کے بعد اب غیرقانونی لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کا مطالبہ جموں و کشمیر تک پہنچ گیا ہے۔ نروتم شرما نے مزید کہا، "جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) میں آج ایک قرارداد پیش کی گئی اور منظور کی گئی ہے، جس میں تمام مذہبی اور دیگر مقامات سے فوری طور پر غیر قانونی لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔"

    نروتم شرما نے میڈیا کو بتایا، "اس قرارداد کو منظور کرنے کے لئے ایوان کا شکریہ ادا کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ قرارداد سپریم کورٹ کےحکم کے مطابق منظور کی گئی ہے اور اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

    جموں میونسپل کارپوریشن نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے غیرمجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔
    جموں میونسپل کارپوریشن نے آج مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے غیرمجاز استعمال پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظورکی۔


    جموں میونسپل کارپوریشن کے میئر چندر موہن گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمام مذہبی مقامات کو بھی اجازت لینی ہوگی اور قانون سب کے لئے یکساں ہے۔‘‘ میئر نے مزید کہا کہ ہم طلبہ اور عمر رسیدہ لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اقدامات تمام لوگوں کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے کی ضرورت ہے اورکسی کو بھی اس میں کوئی مذہبی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے کونسلروں نے بھی اس قرارداد میں کسی فرقہ وارانہ زاویے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر پر مذکورہ سمت کی ضرورت ہے۔ تمام برادریوں کے مذہبی مقامات پر لاگو کیا جائے گا"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    جموں وکشمیر: بارہمولہ میں شراب کی دکان پرگرنیڈ حملہ، ایک ملازم کی موت، تین دیگر زخمی

    قابل ذکر ہے کہ یہ قرارداد کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے کونسلروں کی سخت مخالفت کے درمیان پیش کی گئی اور منظور کی گئی۔ اپوزیشن کونسلروں نے ایوان میں دھرنا دیا اور کافی دیر تک نعرے بازی کرتے رہے۔ گورو چوپڑا کانگریس کونسلر جے ایم سی نے کہا کہ مرکز اور جموں میونسپل کارپوریشن نے جموں میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگانےکی بات اس لئے اُٹھی تاکہ لوگوں کی توجہ باقی مسائل سے ہٹ کر اس طرف مڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بڑے مسائل ہیں، لیکن کوئی اس پر بات نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیں تب بھی لوگ نماز پڑھیں گے، اس لئے یہ فیصلہ بیکار ہے۔

    لاؤڈ اسپیکر کا مسئلہ مہاراشٹر جیسی کئی ریاستوں میں پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اب جے ایم سی کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کو منظوری اور عمل درآمد کے لئے ایل جی کو بھیجا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر اس قانون کو نافذ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں جموں وکشمیر میں بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بڑا تصادم دیکھنے کو ملے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: