உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں کشمیر میں پاکستانی حمایت سے جاری دہشت گردی میں بڑ ا اُلٹ پھیر، اہداف حاصل کرنے کے لئے پاکستان نے بنائی کئی دہشت گرد تنظیمیں

    دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں کشمیر میں پاکستانی حمایت سے جاری دہشت گردی میں بڑ ا اُلٹ پھیر، اہداف حاصل کرنے کے لئے پاکستان نے بنائی کئی دہشت گرد تنظیمیں

    دفعہ 370 ہٹنے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے نبھائے گئے رول پر پاکستان کی اعلی قیادت دہشت گردوں کے آقاوں سے سخت مایوس ہوگئی ہے اور اب پاکستان نے کئی نئی دہشت گرد تنظیمیں وجود میں لائی ہیں تاکہ جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کاروائیاں انجام دی جاسکیں۔

    • Share this:
    جموں: دفعہ 370 ہٹنے کے بعد دہشت گردوں کی جانب سے نبھائے گئے رول پر پاکستان کی اعلی قیادت دہشت گردوں  کے آقاوں سے سخت مایوس ہوگئی ہے اور اب پاکستان نے کئی نئی دہشت گرد تنظیمیں کو پیدا کیا ہے تاکہ جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کاروائیاں انجام دی جاسکیں۔ کہا جارہا ہے کہ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد پاکستان کو یہ امید تھی کہ دہشت گرد ضرور کوئی بڑی واردات انجام دےکر اس فیصلے کا بدلہ ضرور لیں گے۔ کیونکہ دفعہ 370 کو ہٹانا کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ تاہم دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں وکشمیر میں دہشت گرد کوئی بڑا حملہ نہیں کرسکے۔ جبکہ اس کے برعکس دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں وکشمیر میں درجنوں دہشت گرد کمانڈر مارے گئے اور یوں اس ناکامی پر پاکستان دہشت گردوں کی اعلی قیادت سے سخت مایوس ہیں۔

    دوسری وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی نگہداشت بھی بڑھ چکی ہے، جس وجہ سے پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کو انجام نہیں دے پارہا ہے چنانچہ جموں کشمیر میں دہشت گردی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لئے پاکستان نے حالیہ ایام میں کہی نئی دہشت گرد تنظیمیں بنائی ہیں تاکہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافہ کیا جاسکے اور اس وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مخاصمت بڑھ جائے گی جوکہ دہشت گردوں کا بنیادی مقصد ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو نئی دہشت گرد تنظمیں کچھ عرصہ قبل وجود میں لائی گئی ہیں۔ ان میں The resistance front Peoples Anti facist front اور غزنوی فورس قابل ذکر ہیں۔ حالانکہ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صرف پرانی دہشت گرد تنظیموں کا نام بدلا ہے۔ تاکہ ان تنظیموں کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈ جمع کیا جاسکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو دہشت گردانہ صفوں میں شامل کیا جاسکے۔

    کہا جارہا ہے کہ وسطی کشمیر اور شمالی کشمیر میں حالیہ کچھ ایام میں سلامتی اہلکاروں کی ہلاکت میں انہی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے ان نئی دہشت گرد تنظیموں کو یہ ہدایت دی ہےکہ وہ سیکیورٹی دستوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور عوامی نمائندوں پر حملوں میں تیزی لائیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ دہشت گرد کسی بڑے حملے کے فراق میں ہے تاکہ پاکستان سے چل رہی ناراضگی کو ختم کیا جاسکے اور پاکستان میں بیٹھے دہشت گردوں کے آقاوں تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ جموں کشمیر میں موجود دہشت گردوں میں بڑا حملہ کرنے کی طاقت ہے۔ یہ خبر بھی آرہی ہے کہ لانچنگ پیڈوں پر باضابطہ طور پر پاکستانی فوج کے اہلکار بھیس بدل کو دہشت گردوں کو تربیت کے ساتھ ساتھ انھیں جموں وکشمیر میں دہشت گردی بڑھانے کی ہدایت بھی دی جارہی ہے۔ اس بات کی بھی خبر مل رہی ہےکہ نئی دہشت گرد تنظیموں سے کہا گیا ہےکہ وہ سوشل میڈیا پر بھارت مخالف پروپیگنڈہ کے علاوہ بی جے پی کی اقلیتوں کے حوالے سے جاری پالیسی کی مخالفت کو ہوا دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گمراہ کرکے دہشت گردی میں شامل کیا جاسکے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پلوامہ کے ایک اس نوجوان نے دہشت گردوں کے صف میں شمولیت اختیار کی، جس نے 2014 کے سیلاب میں کئی فوجی اہلکاروں کو بچایا تھا۔ اس واقعہ یہ ظاہر ہوتا ہےکہ دہشت گردی میں شامل کرنے کے لئے کس طرح یہاں کے نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ جموں کشمیر میں دہشت گردی جاری رکھنے کے لئے پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے اور اب دیکھنا یہ ہوگا کہ سیکورٹی ایجینسیاں اس نئے چلیج سے نمٹنےکے لئے کون سی حکمت عملی اپنائے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: