உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد ملک سے درآمدات متاثر، خشک میوہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

    افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد ملک سے درآمدات متاثر، خشک میوہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

    افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد ملک سے درآمدات متاثر، خشک میوہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ

    طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، ملک سے درآمدات میں خلل پڑا ہے، جس کی وجہ سے جموں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جموں میں ڈرائی فروٹ انڈسٹری سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے 15 دنوں سے افغانستان سے کوئی درآمد نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں خشک میوہ جات کی قلت ہے۔

    • Share this:
    جموں: طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد، ملک سے درآمدات میں خلل پڑا ہے، جس کی وجہ سے جموں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جموں میں ڈرائی فروٹ انڈسٹری سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ پچھلے 15 دنوں سے افغانستان سے کوئی درآمد نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں خشک میوہ جات کی قلت ہے۔ صارفین بھی افغانستان سے درآمد کی جانے والی خشک میوہ جات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے سے پریشان ہیں۔

    شانتی گپتا جموں کے جیول چوک علاقے میں ڈرائی فروٹ کی دکان چلا رہی ہیں۔ وہ ان دنوں واقعی اس حقیقت کی وجہ سے پریشان ہے کہ اس کی دکان میں خشک میوہ جات کی فروخت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر حالیہ دنوں میں افغانستان سے درآمد کئے جانے والے خشک میوہ جات کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں۔ شانتی گپتا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے درآمد کی جانے والی تقریبا پانچ قسم کی خشک میوہ جات اس کی دکان میں دستیاب ہیں،  لیکن حالیہ دنوں میں ان پانچ اشیاء کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال کی وجہ سے ان کی افغانستان سے سپلائی گزشتہ 15 دنوں سے بند ہے۔

    خشک میوہ جات کی قیمتوں میں کچھ اس طرح سے اضافہ ہوا ہے/فی کلو ابتدائی۔
    1. انجیر 800 روپے سے 1200۔
    2. خوبانی 400 روپے سے 600۔
    3. پیسٹا 1800 روپے سے 2400۔
    4. بادام گری 650 روپے سے900۔
    5. کشمیش 450 روپے سے 700۔

    شانتی گپتا کا کہنا ہے اچانک خشک میوہ کی قیمتیں بڑھنے سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خریدار جو بھی میوہ لینے آتے ہیں وہ یقین ہی نہیں کر رہے ہیں کہ قیمتیں اتنی اُوپر چلی گئیں۔ خریداروں کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہو رہا ہے۔ اُن کو لگتا ہے کہ ہم نے خود ہی میوے کی قیمت بڑھا دی ہے۔ بہت سے خریدار بنا خریداری کئے ہی واپس جا رہے ہیں۔ اُمید ہے جلدی ہی ہمیں اس سے چھٹکارا ملے گا۔

    جموں میں ڈرائی فروٹ ریٹیلر ایسوسی ایشن کی صدر جیوتی گپتا کے مطابق، گزشتہ 15-20 دنوں سے افغانستان سے درآمدات متاثر ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ 10 دنوں کے اندر قیمتوں میں 250 روپے فی کلو گرام تک اضافے کی وجہ صارفین کو بتانا بہت مشکل ہے۔  یہاں تک کہ اس نے خریداروں سے ان کی صورت حال کو سمجھنے کی اپیل کی۔

    انہوں نے مزید کہا دہلی سے جو مال آرہا ہے اُس کی قیمتیں پہلے ہی آسمان چھو رہی ہیں۔ خریداروں کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہورہا ہے اور خریدار بھی ہماری بات ماننے کو تیار نہیں۔ بہت سے خریدار ایسے ہیں جو ہمیں جھوٹا بتا رہے ہیں۔ افغانستان سے میوے کی سپلائی آتی تھی اُس کی quality بہت ہی زیادہ اچھی ہوتی تھی اور خریدار بھی اسی کو لینا پسند کرتے تھے۔ لیکن اب قیمتوں میں اضافہ ہونے سے لوگ میوے کی خریداری سے دور بھاگتے نظر آرہے ہیں اور اس سے ہمیں کافی نقصان ہو رہا ہے۔
    افغانی کاشت شدہ خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے صارفین بھی بہت پریشان ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ اشیاء خریدنا بہت مشکل ہو رہا ہے حالانکہ وہ معیار اور ذائقہ میں اچھے ہیں۔ دلیپ شرما کا کہنا ہے ایک دم سے میوے کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ہم بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ پہلے ہی مہنگائی آسمان چھو رہی تھی اب تو ایسا لگتا ہے ہمیں اب میوہ گھر لینے میں بھی دس بار اپنی جیبیں دیکھنی پڑیں گی۔

    مکیش کمار نے کہا میں ہر مہینے تھوڑی سی بچت کر کے میوہ گھر لے جاتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے میوے کو دیکھ کر اب ہمیں اپنی آنکھیں بند کر کے رکھنی پڑیں گی۔ حالانکہ سرینگر کا جو میوہ ہے وہ بھی بہت اچھی  quality  کا ہے لیکن افغان سے آیا ہوا میوہ لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ہم اُمید کرتے ہیں جلد سے جلد اس کی قیمت واپس اپنی جگہ پر پہنچے۔ افغانستان بھارت کے لیے خشک میوہ جات کا بڑا ذریعہ ہے۔  خانہ جنگی کے دوران بھی ملک میں خشک میوہ جات ، بادام یا شہتوت کی بھرپور فصل ہوئی ہے۔  طالبان کے عروج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان سے خشک میوہ جات ، شہتوت اور بادام کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: