ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان نے ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا کیا دعوی

امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان نے ملک کے پچاسی فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا کیا دعوائطالبان کے دعوے کا ہندوستان اور جموں وکشمیر کے حالات پراثر کیا پڑے گا ۔جانیے دفاعی ماہرین کی رائے۔

  • Share this:
امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان نے ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا کیا دعوی
امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں طالبان نے ملک کے پچاسی فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا کیا دعوائطالبان کے دعوے کا ہندوستان اور جموں وکشمیر کے حالات پراثر کیا پڑے گا ۔جانیے دفاعی ماہرین کی رائے۔

افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ انخلاء کے فوراً بعد ہی طالبان نے افغانستان کے مختلف علاقوں پر اپنا قبضہ جمانا شروع کردیا۔اطلاعات کے مطابق طالبان افغانستان کے سو سے زیادہ اضلاع پر قابض ہو چکا ہے۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملک کے پچاسی فیصد حصے پر قابض ہوچکاہے اور باقی ماندہ علاقوں پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے پیش قدمی کررہاہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف افغانستان کی حکومت پریشان ہے بلکہ وہاں کے عوام میں خوف وہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔یہاں تک کہ کئی علاقوں میں لوگ طالبان کے خوف کی وجہ سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔چونکہ افغانستان بھارت کا پڑوسی ملک ہے لہذا وہاں کے حالات کا برائے راست اثر ہندوستان کی اندورنی سلامتی پر بھی پڑ سکتاہے۔دفاعی ماہرین کاکہناہےکہ افغانستان میں طالبان کے مکمل طور پر قابض ہونے کے بعد بھارت بالخصوص جموں وکشمیر کے حالات پر کافی اثر پڑ سکتاہے۔دفاعی تجزیہ نگار رٹائرڈ برگیڈئیر انل گپتا کا کہناہے کہ طالبان کے افغانستان میں قبضے کے بعد ہتھیار بند گروپوں میں شامل مصلح دہشت گردوں کا استعمال دوسرے ممالک میں تشدد پھیلانے کے لیے کیاجاسکتاہے۔


نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا چونکہ چین اور آئی ایس آئی طالبان کی مدد کرنے کے پیش پیش رہے ہیں۔لہذا بیجنگ آئی ایس آئی کا اثرو رسوخ استعمال کرکے طالبان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گاکہ وہ چین میں UIGHURمسلمانوں کی مدد کرنے کے لئے سامنے نہ آئے لہٰذا عین ممکن ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی طالبان دہشتگردوں کو بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن کے اس پار بھیج کر بھارت بالخصوص جموں وکشمیر میں تشدد کی کارروائیاں انجامِ دینے کے لیے کوشاں رہے گی۔انہوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان کی طرف سے جموں وکشمیر میں سرحد اور کنٹرول لائن پر موجودہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔کیونکہ پاکستان طالبان دہشتگردوں کو بھارتی علاقے میں دھکیلنے کے لیے ایسی ناپاک حرکت دھرا سکتاہیں۔


برگیڈئیر گپتا کاتاہم ماننا ہے کہ بھارتی افواج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں جموں وکشمیر میں پہلے بھی افغانستان کے دہشت گردوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرچکی ہیں۔لہذا طالبانی دہشت گردوں کی جموں وکشمیر میں موجودگی حفاظتی عملے کے لئے کوئی نیا چلینج نہیں ہے۔ برگیڈئیر گپتا نے تاہم کہاکہ افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات اور طالبان دہشتگردوں کی کشمیر میں موجودگی پاکستان کو یہ موقع فراہم کرسکتا ہے کہ وہ کشمیر معاملے کو دوبارہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرسکے۔دفاعی تجزیہ نگار انل گور کاکہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے مکمل قبضے کے بعد وہاں خانہ جنگی کے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔


نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد طالبان اور دیگر مخالف گروپ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوںگے جس سے وہاں ایک بار پھر عام لوگوں کا جینا محال ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چین اور پاکستان کی یہ بھی کوشش رہے گی کہ مل کر طالبان دہشتگردوں کو بھارت کے خلاف استعمال کرسکیں ۔کپٹن انل گور نے کہاکہ آئی ایس آئی اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے طالبان دہشتگردوں کو جموں وکشمیر میں داخل کرکے یہاں کی دم توڑتی ملی ٹینسی کو دوبارہ ہوا دینے کی کوشش کرسکیں۔ کپٹن انل گور نے تاہم کہاکہ پاکستان کی آئی ایس آئی یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوگی۔کیونکہ جموں وکشمیر کے لوگ اب یوٹی میں مزید تباہی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر میں گزشتہ دنوں ملی ٹنٹنوں اور حفاظتی عملے کے درمیان جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں عام لوگ ہی حفاظتی عملے کو اطلاعات فراہم کررہے ہیں۔ کپٹن انل گور نے کہاکہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد وہاں پیدا شدہ حالات نہ صرف بر صغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی حالات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 16, 2021 01:49 PM IST