உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مٹن کے سوریہ مندر میں 32 سال بعد ہوا مہا سبھا کی سالانہ کانفرنس کا انعقاد

    مٹن کے معروف سوریہ مندر میں 32 برس کے وقفے کے بعد مہاسبھا کی جانب سے منعقدہ سالانہ کانفرنس کے بعد ذمہ داران نے سرکار پر زور دیا کہ اس بات کو ممکن بنایا جائے کہ کشمیری پنڈتوں کی رہائش کو پہلے ممکن بنا کر تمام مندروں اور تیرتھ استھانوں میں مزہبی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔

    مٹن کے معروف سوریہ مندر میں 32 برس کے وقفے کے بعد مہاسبھا کی جانب سے منعقدہ سالانہ کانفرنس کے بعد ذمہ داران نے سرکار پر زور دیا کہ اس بات کو ممکن بنایا جائے کہ کشمیری پنڈتوں کی رہائش کو پہلے ممکن بنا کر تمام مندروں اور تیرتھ استھانوں میں مزہبی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔

    مٹن کے معروف سوریہ مندر میں 32 برس کے وقفے کے بعد مہاسبھا کی جانب سے منعقدہ سالانہ کانفرنس کے بعد ذمہ داران نے سرکار پر زور دیا کہ اس بات کو ممکن بنایا جائے کہ کشمیری پنڈتوں کی رہائش کو پہلے ممکن بنا کر تمام مندروں اور تیرتھ استھانوں میں مزہبی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر:- اکھل بھارتیہ تیرتھ پروہت مہاسبھا نے کشمیر میں تمام مندروں کی تجدید کاری اور کشمیری پنڈتوں کی کشمیر میں بازآبادکاری کےلیے سرکار سے ٹھوس پالیسیوں کو عملانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مٹن کے معروف سوریہ مندر میں 32 برس کے وقفے کے بعد مہاسبھا کی جانب سے منعقدہ سالانہ کانفرنس کے بعد ذمہ داران نے سرکار پر زور دیا کہ اس بات کو ممکن بنایا جائے کہ کشمیری پنڈتوں کی رہائش کو پہلے ممکن بنا کر تمام مندروں اور تیرتھ استھانوں میں مذہبی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران کشمیر کے اکثریتی طبقے سے اقلیتوں کے تحفظ اور ان کی بازآبادکاری کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ اسے قبل ملک کے تمام تیرتھ استھانوں سے آئے سربراہان نے سوریہ مندر میں  خصوصی پوجا کی اور شیو لنگم کا ابھیشیک بھی کیا۔

    دیوتیرتھ شنکراچاریہ شاردھا پیٹھ، سوامی امرت آنند نے اس موقع پر کہا کہ مہا سبھا کی کشمیر میں 32 برس کے بعد منعقد کی جانے والے اس کانفرنس کا مقصد یہاں پر قائم قدیم مندروں میں مزیبی سرگرمیوں کی بحالی ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے کہ جب وادی سے ہجرت کر چکے پنڈتوں اور ہندووں کو دوبارہ وادی میں بسایا جائے اور ان کی باز آباد کاری کی جائے۔
    قومی صدر اکھل بھارتیہ تیرتھ پروہت مہا سبھا، پنڈت مہیش پاٹھک نے کہا کہ سرکار کو کشمیر میں قائم مندروں کی تجدید کاری اور ان مندروں میں مزیبی سرگرمیوں کو عروج دینے کےلیے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ کشمیری پنڈتوں کی دوبارہ اور مستقل طور پر وادی واپسی کےلیے ایک خاکہ مرتب کرنا ہوگا۔ پنڈت مہیش پاٹھک نے کہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وادی میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت کام کر رہے کشمیری پنڈت ملازمین کے لیے ابھی تک سرکار نے انکی رہائش کو لیکر کچھ خاص نہیں کیا ہے ایسے میں  باقی کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کےلیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    symptom of suicide: موڈ سوئنگ بھی ہو سکتی ہے خودکشی کی علامت، جانئے ماہرین کی رائے

    مہیش پاٹھک نے کہا کہ پنڈتوں کی بازآبادکاری کےلیے یہاں کے اکثریتی طبقے یعنی مسلمانوں کو آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاترا کے دوران پیش آئی حالیہ قدرتی آفت کے دوران جس طرح سے یہاں کے مسلمانوں نے ریسکیو آپریشن میں کلیدی رول ادا کیا وہ قابل سراہنا ہے اور اسی طرح سے پنڈتوں کی وطن واپسی میں بھی یہاں کے مسلمان نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاٹھک نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف  کشمیر میں اکثریتی طبقے پر فرض لازم ہے بلکہ کشمیر سے باہر اکثریتی ہندووں کو بھی اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہیے اور یہی ہندوستان کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتا ہے۔

    NEET 2022: امتحان دینے کیلئے طالبات کے انڈرگارمنٹس اتروائے، 100 لڑکیوں نے درج کرائی شکایت

    مارٹنڈ پروہت سبھا کے صدر اشوک سدھا نے اس موقع پر کہا کہ کشمیر میں حالات جیسے بھی رہے ہو لیکن یہاں کے بھائی چارے پر کبھی بھی آنچ نہیں آئی ہے۔ اشوک کمار سدھا نے کہا کہ کشمیر کے 99 فی صدی مسلمان امن پسند ہیں جبکہ کچھ عنصر یہاں کے مزیبی بھائ چارے میں  ہمیشہ بگھاڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی مستقل وطن واپسی اور انکی کشمیر میں بازآبادکاری کےلیے ابھی تک سرکار نے نہ ماضی میں کچھ کیا اور نا ہی اب ہو رہا ہے۔ اشوک سدھا نے کہا کہ سرکار نے مٹن کے مارٹنڈ سوریہ مندر تک کو فراموش کیا جبکہ کئی بار اس معروف مزیبی مقام کی تجدید کاری کے لیے پلان مرتب کئے گئے جن کو بعد میں عملایا نہیں گیا۔ اشوک سدھا نے قدیم برگ شکھا کے مندر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئ بار سرکار سے اس تواریخی مندر تک راستہ بنانے کی گوہار لگائ گئ لیکن تاحال اس بارے میں بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں رہائش پزیر وزیر اعظم پیکیج ملازمین کی رہائش کےلیے سرکار نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر رہائش پذیر کشمیری پنڈتوں کے حوصلے پست ہو گۓ ہیں۔ انہوں نے سرکار سے تلقین کی کہ وہ اس حوالے سے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھائے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: