ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

رواں سال امرناتھ یاتراکاہوسکتاہے اہتمام،ضلع انتظامیہ گاندربل کےاعلان سے ملے اشارے

ضلع مجسٹریٹ کرتیکا جوتسنا نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ خاص بات چیت میں کہا کہ امرناتھ یاترا سے منسلک تمام مقامی افراد کی ترجیحی بنیادوں پر ٹیکہ کاری کی جائے گی تاہم اسکے لئے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی ہے۔

  • Share this:
رواں سال امرناتھ یاتراکاہوسکتاہے اہتمام،ضلع انتظامیہ  گاندربل کےاعلان سے ملے اشارے
ضلع مجسٹریٹ کرتیکا جوتسنا نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ خاص بات چیت میں کہا کہ امرناتھ یاترا سے منسلک تمام مقامی افراد کی ترجیحی بنیادوں پر ٹیکہ کاری کی جائے گی تاہم اسکے لئے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی ہے۔

ضلع انتظامیہ گاندربل نے امرناتھ یاترا سے جڑے تمام مقامی افراد کو کووڈ ویکسین لگوانے کے لئے کہا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کرتیکا جوتسنا نے نیوز 18 اُردو کے ساتھ خاص بات چیت میں کہا کہ امرناتھ یاترا سے منسلک تمام مقامی افراد کی ترجیحی بنیادوں پر ٹیکہ کاری کی جائے گی تاہم اسکے لئے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی ہے۔ضلع انتظامیہ کے اس بیان سے سالانہ امرناتھ یاترا سے منسلک مقامی لوگوں میں امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔ یاترا سے منسلک افراد بشمول دکاندار، گھوڑے بان اور پالکی والے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے اشارے مل رہے ہیں کہ اس سال امرناتھ یاترا کا اہتمام ہو سکتا ہے۔


بال تل ٹریڈرس یونین کے چیئرمین محمد یوسف شیرا نے نیوز 18 اُردو کو بتایا کہ انہیں کہا گیا ہے کہ یاترا سے منسلک افراد کووڈ سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ٹیکہ جلد لگوائیں۔ یوسف شیرا نے کہا کہ اگرچہ یاترا کے راستے میں کلن، کنڈ اور کنگن میں پہلے سے ہی ویکسی نیشن مرکز قائم ہے جہاں عام لوگوں کی ٹیکہ کاری کا عمل جاری ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ یاترا سے جڑے افراد کےلئے سونہ مرگ میں خصوصی ویکسی نیشن سینٹر قائم کیا جائے۔ محمد یوسف شیرا نے کہا کہ مقامی لوگ چاہتے ہیں کہ اس سال یاترا کا اہتمام ہو، کیونکہ بقول انکے علاقے میں کورونا کے زیادہ معاملات سامنے نہیں آئے ہیں اور یاتری بحفاظت شیو لنگم کے درشن کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ گزشتہ برس یاترا نہ ہونے کی وجہ سے اس سے جڑے مقامی لوگوں کا روزگار کافی متاثر ہوا۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ سرکار رواں برس یاترا کا اہتمام کرنے کا فیصلہ لے۔



ادھر دوسری جانب پہلگام ٹینٹ اونرس ایسوسیشن کے صدر، مشتاق پہلگامی نے کہا کہ اننت ناگ ضلع انتظامیہ کی طرف سے انہیں اس طرح کی کوئی اطلاع یا ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے ۔ نیوز 18 اُردو کے اس نمایندے سے بات چیت کرتے ہوئے مشتاق پہلگامی نے کہا کہ سرکار کو امرناتھ یاترا کے اہتمام کا فیصلہ لیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ یاترا کا اہتمام دونوں راستوں سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام روٹ نہ صرف امرناتھ یاترا کا روایتی راستہ ہے بلکہ علاقے کے ہزاروں افراد کا روزگار بھی اسے وابستہ ہے۔

 سالانہ امرناتھ یاترا سے منسلک مقامی لوگوں میں امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔
سالانہ امرناتھ یاترا سے منسلک مقامی لوگوں میں امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔


واضح رہے کہ 3 جون کو بری فوج کے سربراہ ، جنرل ایم ایم نرونے نے سرینگر میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج امرناتھ یاتریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تیار ہے تاہم یاترا شروع کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ یو ٹی کی سرکار کو ہی لینا ہے۔ یاترا سے متعلق تازہ بیانات سے یہ اندیہ مل رہا ہے کہ کووڈ وبا کی صورتحال میں بہتری آنے پر رواں برس امرناتھ یاترا کا اہتمام ہو سکتا ہے۔ حالانکہ اس حوالے سے تاحال سرکار کی طرف سے کوئ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ اس سال امرناتھ یاترا کی رجسٹریشن کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا تاہم یو ٹی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں کووڈ کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر رجسٹریشن عمل کو ملتوی کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ برس کووڈ وبا کی وجہ سے امرناتھ یاترا کو رد کر دیا گیا تھا۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 05, 2021 11:20 PM IST