ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر کو لے کر وزیر اعظم کی کل جماعتی میٹنگ پر سیاسی مبصرین نے کہی یہ بڑی بات

Jammu and Kashmir News : سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ میٹنگ جموں و کشمیر کے مستقبل کے لئے ایک مثبت شروعات ہے۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ یوٹی کی نوجوان نسل اسمبلی انتخابات کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے ۔ تاکہ وہ اپنے نمائندرے منتخب کر کے ایک ایسی جمہوری سرکار تشکیل دے سکیں ، جو یوٹی میں جاری موجودہ ترقیاتی عمل کو مزید آگے بڑھا سکے۔

  • Share this:
جموں و کشمیر کو لے کر وزیر اعظم کی کل جماعتی میٹنگ پر سیاسی مبصرین نے کہی یہ بڑی بات
جموں و کشمیر کو لے کر وزیر اعظم کی کل جماعتی میٹنگ پر سیاسی مبصرین نے کہی یہ بڑی بات

جموں و کشمیر: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کل نئی دلی میں منعقدہ کُل جماعتی میٹنگ میں جموں و کشمیر سے متعلق کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ میٹنگ میں شامل جموں و کشمیر کی آٹھ سیاسی جماعتوں سے وابستہ 14 لیڈران نے شرکت کے بعد بتایا کہ میٹنگ خوش گوار ماحول میں ہوئی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائیش گاہ پر جموں و کشمیر سے متعلق  ہوئی یہ میٹنگ ساڑھے تین گھنٹے تک چلی اور اس میں یوٹی کے مستقبل کے بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈران نے اپنے خیالات ظاہر کئے، جن میں دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کے علاوہ یوٹی کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے جیسے معاملات زیر بحث آئے۔


میٹنگ کے اختتام پر لیڈران نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔  جانکاری کے مطابق میٹنگ میں جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کو مزید مظبوط بنانے اور سیاسی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں سے کہا گیا کہ وہ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق قائم کئے گئے کمیشن کو اپنا تعاون دیں ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے یہ میٹنگ جموں و کشمیر کے مستقبل کے لئے ایک مثبت شروعات ہے۔


سیاسی تجزیہ نگار پرکھشت منہاس نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ میٹنگ جموں و کشمیر کی سیاست کے لئے ایک بڑا قدم ہے ، جس سے یوٹی کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ  اس میٹنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈران اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ  بات چیت ہی ایک ایسا طریقہ ہے ، جس سے جموں و کشمیر میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی لیڈران کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے ، کیونکہ ہر ایک  لیڈر اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق  بولنے کی کوشش کرتا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں بہت جلد جمہوری طرز حکومت  دوبارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ منہاس کا کہنا ہے کہ یوٹی میں عنقریب ہی اسمبلی انتخابات کروائے جاسکتے ہیں ۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ یوٹی کی نوجوان نسل اسمبلی انتخابات کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہے ۔ تاکہ وہ اپنے نمائندرے منتخب کر کے ایک ایسی جمہوری سرکار تشکیل دے سکیں ، جو یوٹی میں جاری موجودہ ترقیاتی عمل کو مزید آگے بڑھا سکے۔

ادھر جموں و کشمیر کے عوام نے بھی میٹنگ سے متعلق مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ جموں کے مقامی شہری راجیش شرما کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ہوئی بات چیت ایک خوش آئند قدم ہے اور انہیں امید ہے کہ مرکزی سرکار حد بندی کے عمل کو جلد مکمل کرے ۔ تاکہ بقول ان کے ماضی میں جموں کے ساتھ ہوئی سیاسی نا انصافی دور ہوسکے ۔

ایک اور نوجان مُنیش ورما کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل میں نوجوانوں کی شرکت کے بار ے میں وزیر اعظم کی خواہش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نریندر مودی سرکار جموں و کشمیر کی سیاست کی بھاگ ڈور نوجوانوں کو سونپنا چاہتی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 25, 2021 04:40 PM IST