உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا کا خوف یاترا پر بھاری، امرناتھ یاترا منسوخ کرنےکا فیصلہ، جموں وکشمیر کے لوگوں نے کہی یہ بات

    کورونا کا خوف یاترا پر بھاری، امرناتھ یاترا منسوخ کرنےکا فیصلہ

    کورونا کا خوف یاترا پر بھاری، امرناتھ یاترا منسوخ کرنےکا فیصلہ

    عوام کا کہنا ہےکہ اس وقت وادی میں کورونا وائرس بری طرح سے پھیل رہا ہے، ایسے میں یاترا کرانا یاتریوں کے ساتھ ساتھ اس سے منسلک لوگوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا، اس لئے حکومت نے اس سال یاترا ملتوی کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے، ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    • Share this:
    جموں: کافی عرصے تک تذبذب کی کیفیت برقرار رہنے کے بعد آج سالانہ شری امرناتھ یاترا کو ملتوی کرنےکا فیصلہ سامنے آگیا۔ اس فیصلے کے حوالے سے وادی کشمیرکے لوگوں نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب جہاں اس یاترا سے آپسی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملتا تھا۔ وہیں اس یاترا کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو ذریعہ معاش ملتا تھا۔ تاہم جس طرح سے اس وقت وادی میں کورونا وائرس بری طرح سے پھیل رہا ہے، ایسے میں یاترا کرانا یاتریوں کے ساتھ ساتھ اس سے منسلک لوگوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا، اس لئے حکومت نے اس سال یاترا ملتوی کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے، ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    بشیر احمد نامی ایک مقامی شخص کا کہنا تھا کہ ایک جانب انھیں اس سال یاترا منسوخ ہونے پر کافی افسوس ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یاتریوں اور دیگر منسلک لوگوں کی حفاظت کو دھیان میں رکھ کرلیا گیا ہے، اس لئے ہم تہہ دل سے اس فیصلےکا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت پوری سرکاری مشینری کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں لگی ہے اور ایسے میں امرناتھ یاترا کی اجازت دینا کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں تھا، بات اگر جموں کی جائے تو وہاں بھی لوگوں نے اس فیصلے کو صیح قرار دیا ہے۔ حالانکہ جموں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ گرچہ یاترا ملتوی ہونے سے وہ دکھی بھی ہیں، تاہم ان کا ماننا تھا کہ یہ فیصلہ ان کی حفاظت کے لئےلیا گیا ہے۔

    راکیش کمار نامی ایک آٹو والے کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس یاترا سے جموں کی معشیت کافی بڑھ جاتی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خود انسان کا وجود داوں پرلگ گیا ہے اور ایسے میں یہ یاترا لوگوں کے لئےخسارے کا سودا ثابت ہوتی۔ مکیش نامی ایک ہوٹلیرکا کہنا تھا کہ ہرسال اس یاترا کی وجہ سے ان کا کاروبار کئی گنا بڑھ جاتا تھا۔ تاہم اس سال یاترا ملتوی ہونے پرکافی خوش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت پوری سرکاری مشینری کورونا وائرس سے لوگوں کو بچانے میں لگی ہے اور ایسے میں حکومت کے لئے یہ ناممکن تھا کہ وہ یاتریوں کا خیال رکھ سکتے۔

    واضح رہے اس سال امرناتھ یاترا ہونے کو لےکر تذبذب کی کیفیت پہلے سے ہی جاری تھی۔ تاہم اس کےباوجود بھی ملک کی کئی ریاستوں سے یاتری جموں پہنچ چکے تھے اور انہیں کافی عرصے سے غیر یقینی صورتحال کی مار جھیلنی پڑتی تھی اب جبکہ یاترا کو اس سال ملتوی کرنے کا فیصلہ سامنے آچکا ہے اب یہ یاتری بھی واپسی کا سفر شروع کریں گے۔ حالانکہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یاترا ملتوی کرنا ایک بڑا معاشی نقصان ہے۔ وہیں انسان کی عقیدت سے جڑا یہ مسئلہ ضرور ایک عقیدتمند کے دل و روح کو افسردہ بھی کرتا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: