உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra 2022: مقدس گپھا میں آخری درشن کے ساتھ ہی امرناتھ یاترا اختتام پذیر

    Amarnath Yatra 2022: مقدس گپھا میں آخری درشن کے ساتھ ہی امرناتھ یاترا اختتام پذیر

    Amarnath Yatra 2022: مقدس گپھا میں آخری درشن کے ساتھ ہی امرناتھ یاترا اختتام پذیر

    Jammu and Kashmir : شری امرناتھ جی یاترا سلسلے میں آج چھڑی مبارک پنچ ترنی سے مقدس گپھا کی جانب روانہ ہوئی اور وہاں پر مقدس شیو لنگم کے آخری درشن کے ست ہی اس سال کی شری امرناتھ جی یاترا اختتام پذیر ہوگئی۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: شری امرناتھ جی یاترا سلسلے میں آج چھڑی مبارک پنچ ترنی سے مقدس گپھا کی جانب روانہ ہوئی اور وہاں پر مقدس شیو لنگم کے آخری درشن کے ست ہی اس سال کی شری امرناتھ جی یاترا اختتام پذیر ہوگئی۔ مہنت دپیندرا گری کی قیادت میں مقدس گپھا میں آج شراون پورنما کے موقع پر خصوصی پوجا ویدک منتروں کے ساتھ مقدس برفانی لنگم کے درشن ہوئے، جس کے ساتھ ہی رواں برس کی شری امرناتھ جی یاترا اختتام پذیر ہوگئی۔ رواں برس ساڑھے تین لاکھ سے زائد یاتریوں نے امرناتھ کی مقدس گپھا میں برفانی شیو لنگم کے درشن کئے۔ یاتریوں نے امرناتھ جی یاترا کے دوران انتظامیہ کے انتظامات اور مقامی لوگوں کے تعاون کی بھی بے حد سراہنا کی۔

    امرناتھ جی یاترا کے آخری دن جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے  کہا کہ اس سال  3.65 لاکھ یاتریوں نے امرناتھ کی سالانہ یاترا کی اور یہ تعداد پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ سالانہ یاترا چاڑی مبارک کی سمپن پوجا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ہے۔  مجموعی طور پر 3.65 یاتریوں نے امرناتھ کے غار میں درشن کیا۔  یہ اعداد و شمار پچھلے پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہے ۔ سنہا نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بادل پھٹنے کی وجہ سے یاترا تین دن تک معطل رہی اور سیکورٹی فورسز کی کوششوں سے این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف نے یاترا کی جلد از جلد بحالی کو یقینی بنایا۔ ایل جی نے کہا کہ ہندوستان بھر سے یاتری مقدس غار پر آئے اور شیو لنگم کے درشن کئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بہار کے 19سالہ نوجوان کا جموں۔کشمیر میں دہشت گردوں نےگولی مار کر ڈالا قتل


    سنہا نے کہا کہ 44 دن کی یاترا کی مدت کے دوران، موسم 20 دنوں تک بے ترتیب اور اس سال یاترا نواس سہولیات میں یاتریوں کو ٹھہرانے کی گنجائش 70,000 سے بڑھا کر 125,000 کردی گئی تھی۔  آر ایف آئی ڈی چپس نے یاتریوں پر نظر رکھنے میں بہت اچھا کردار ادا کیا ، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک خاتون یاتری کا بچہ گم ہو گیا جسے آر ایف آئی ڈی کے ذریعے چند منٹوں میں ٹریک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یاترا پرامن رہی اور سونہ مرگ میں بال تل اور پہلگام میں چندن واڑی کے دونوں بیس کیمپوں کے یاتریوں نے انتظامیہ کے ذریعہ کئے گئے مختلف سروے کے ذریعہ انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کشمیریونیورسٹی کا ڈیٹاہیک؟ 10 لاکھ طلبہ کاڈیٹا فروخت کرنےکادعویٰ


    ایل جی نے سیکورٹی فورسز بشمول پولیس، فوج، سی آر پی ایف اور دیگر مرکزی فورسز اور بالخصوص پہلگام اور بالتل کے مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یاتریوں کی بھرپور مدد کی۔  ایل جی نے کہا کہ میں پورے کشمیر کے لوگوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کھلے دل سے یاتریوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز نے یاتریوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی اور پرامن یاترا کو یقینی بنایا گیا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امرناتھ یاترا کی وجہ سے سیاحوں کی آمد میں کمی آئی ہے، ایل جی نے کہا کہ یاترا سے کشمیر میں سیاحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔  انہوں نے کہا کہ اگر ہم یاترا کے دوران گزشتہ تین سالوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کریں تو اس سال سیاحوں کی تعداد زیادہ تھی، انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کو یاترا سے نہیں جوڑا جانا چاہئے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: