உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra 2022: پہلے دن ہزاروں یاتریوں نے امرناتھ گپھا میں مقدس شیو لنگم کے کئے درشن

    Amarnath Yatra 2022: پہلے دن ہزاروں یاتریوں نے امرناتھ گپھا میں مقدس شیو لنگم کے کئے درشن

    Amarnath Yatra 2022: پہلے دن ہزاروں یاتریوں نے امرناتھ گپھا میں مقدس شیو لنگم کے کئے درشن

    Jammu and Kashmir : پہلگام کے نن ون اور بال تل بیس کیمپوں سے یاتریوں کے پہلے جتھے کی روانگی کے ساتھ ہی اس سال کی امرناتھ جی یاترا کا باضابطہ آغاز ہوا۔ امرناتھ گپھا کی جانب درشن کیلئے جانے والے یاتریوں نے اس دوران کافی جوش و عقیدت کا اظہار کیا اور سیکورٹی سمیت تمام دیگر انتظامات کی بھی سراہنا کی۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: پہلگام کے نن ون اور بال تل بیس کیمپوں سے  یاتریوں کے پہلے جتھے کی روانگی کے ساتھ ہی اس سال کی امرناتھ جی یاترا کا باضابطہ آغاز ہوا۔ امرناتھ گپھا کی جانب درشن کیلئے جانے والے یاتریوں نے اس دوران کافی جوش و عقیدت کا اظہار کیا اور سیکورٹی سمیت تمام دیگر انتظامات کی بھی سراہنا کی۔ یاترا کے پہلے ہی دن ہزاروں یاتریوں نے جنوبی کشمیر کے ہمالیائی پربتوں پر واقع امرناتھ کہ گپھا میں مقدس برفانی شیو لنگم کے درشن کئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: دی بوائز نیکسٹ ڈور سے رہیں ہوشیار، کون ہے ہائبرڈ دہشت گرد؟


    ایک طویل انتظار کے بعد بالآخر مذہبی اہمیت کی حامل اور کشمیریت کی عکاس شری امرناتھ جی کی یاترا شروع ہوئی اور بھولے بھگوان کے نعروں سے پھر ایک بار کشمیر کی ہمالیائی وادیاں گونج اٹھیں۔ پہلگام کے نن ون یاترا بیس کیمپ سے ڈی سی اننت ناگ ڈاکٹر بپیوش سنگلا کی موجودگی میں ہزاروں یاتریوں پر مشتمل امرناتھ یاتریوں کا پہلا جتھا مقدس گپھا کی جانب درشن کیلئے صبح سویرے نکل پڑا۔ اس دوران یاتریوں نے اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں آنے کے بعد انہیں توقع سے زیادہ پیار ملا۔ جبکہ یاتریوں کا استقبال مقامی لوگوں اور انتظامیہ نے پھولوں اور گلدستوں سے کیا۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ سیکورٹی سمیت تمام دیگر انتظامات بہت ہی عمدہ اور اعلیٰ ہیں اور یاتریوں کو یہاں پر کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : جموں خطے میں ان گرمیوں کے ایام میں لوگ پانی کی قلت سے لوگ پریشان


    سال 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سیاسی مجبوریوں کے چلتے امرناتھ یاترا کو بیچ میں ہی ملتوی کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد کووڈ کی وجہ سے لگاتار دو برس تک یہ یاترا معطل رہی۔ ایسے میں عام یاتریوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار یاترا پر آنے والے یاتریوں اور سادھوؤں نے بھی اس یاترا کو منفرد تجربہ قرار دیا۔ ان یاتریوں کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ دو برس سے لگاتار اس کوشش میں تھے کہ وہ امرناتھ یاترا کیلئے کشمیر پہنچے، لیکن کووڈ کی وجہ سے یاترا نہ ہونے سے وہ نہیں آ سکے۔ لیکن اس بار انکی امیدیں رنگ لائیں اور وہ بالآخر امرناتھ یاتریوں کے پہلے جتھے کے ساتھ روانہ ہوئے۔

    ہر سال امرناتھ یاترا بال تل اور چندن واڑی کے راستوں سے منعقد ہوتی ہے۔ لیکن اکثر یاتری چندن واڑی کے راستے یاترا کو ترجیح اس لیے دیتے ہیں، کیونکہ مذیبی اعتبار سے یہ راستہ کافی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ انتظامیہ کے علاوہ کشمیر کے مقامی لوگ امرناتھ یاترا کے مین اسٹیک ہولڈرز مانے جاتے ہیں۔ اس بار بھی سرکاری مشینری کے علاوہ یہاں کے لوگ یاترا کے دوران پیش پیش ہیں اور یاتریوں کیلئے ہر خدمت بہم رکھی جا رہی ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: