உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra 2022: سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان امرناتھ یاترا شروع، پہلا قافلہ وادی میں ہوا داخل

    Amarnath Yatra 2022: سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان امرناتھ یاترا شروع، پہلا قافلہ وادی میں ہوا داخل

    Amarnath Yatra 2022: سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان امرناتھ یاترا شروع، پہلا قافلہ وادی میں ہوا داخل

    Jammu and Kashmir : شری امرناتھ جی یاترا کا پہلا قافلہ وادی کے گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ سے داخل ہوچکا ہے ۔ سخت حفاظتی بندوبست کے بیچوں بیچ شری امرناتھ جی کی پوتر گھپا تک پہچنے کے لیے پہلگام اور بال تل کے راستے یاتریوں کو چھوڑا جا رہا ہے اور اس حوالے سے پورے سرینگر جموں قومی شاہراہ پر تھری ٹایر سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں ۔

    • Share this:
    قاضی گنڈ : شری امرناتھ جی یاترا کا پہلا قافلہ وادی کے گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ سے داخل ہوچکا ہے ۔ سخت حفاظتی بندوبست کے بیچوں بیچ شری امرناتھ جی کی پوتر گھپا تک پہچنے کے لیے پہلگام اور بال تل کے راستے یاتریوں کو چھوڑا جا رہا ہے اور اس حوالے سے پورے سرینگر جموں قومی شاہراہ پر تھری ٹایر سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور جگہ جگہ پر یاتریوں کی سہولیات کے لیے انتظامات کئے گئے ہیں۔ ضلع پولیس اور انتظامیہ کولگام کے ڈی سی اور ایس ایس پی نے یاتریوں کا خوش آمدید کرتے ہوئے احسن اور خوشحال یاترا کی امید ظاہر کی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: Amarnath Yatra 2022 کیلئے یاتریوں کاپہلا قافلہ جموں سےروانہ، یاتریوں میں پایاگیاجوش و خروش


    اس موقعہ پر یاتریوں نے ضلع انتظامیہ کولگام اور اننت ناگ کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر شری امرناتھ جی کی یاترا کے سلسلے میں آج وادی میں داخل ہونے والے پہلے قافلے کو انتظامیہ ، پولیس اور پنچایتی راج نمائندوں نے والہانہ استقبال کیا ۔ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر عبدالجبار، ڈی سی کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین، ایس ایس پی ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی کے علاوہ پنچایتی راج نمائندوں نے یاتریوں کا استقبال کیا ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں سری نگرقومی شاہراہ پرٹریفک بحال، مسافرین کوسہولت


    قاضی گنڈ کی نویوگا ٹنل پر ضلع انتظامیہ کولگام اور اننت ناگ کے افسران موجود تھے، جنہوں نے یاتریوں کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے احسن اور خوشحال یاترا کی امید ظاہر کی۔ سابق ممبر اسمبلی دیوسر محمد امین بٹ،  ڈی ڈی سی ممبر ویسو قاضی گنڈ بلال احمد دیوا اور دیگر سیاسی اور سماجی لیڈران نے یاتریوں کا خیر مقدم  کیا ۔

    ساتھ ہی ساتھ انہوں امید ظاہر کی کہ یاترا سے نہ صرف مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے بلکہ معشیت میں بھی سُدھار ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: