உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra 2022:بھاری بارش کی وجہ سے کچھ دیر رکی یاترا موسم بہتر ہوتے ہی ہوگی بحال

    Amarnath Yatra 2022:  خراب موسم کی وجہ سے رُکی امرناتھ یاترا۔

    Amarnath Yatra 2022: خراب موسم کی وجہ سے رُکی امرناتھ یاترا۔

    Amarnath Yatra 2022: سرکاری ریکارڈ کے مطابق، تقریباً 1.62 لاکھ عقیدت مند اب تک شری امرناتھ کے مقدس غار میں ہملنگ کے درشن کر چکے ہیں۔ شری امرناتھ یاترا جو 29 جون سے شروع ہوئی تھی 11 اگست کو ختم ہوگی۔

    • Share this:
      Amarnath Yatra 2022:امرناتھ یاترا ایک بار پھر ہفتے کے روز خراب موسم کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ سفر کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔ تاہم بعد میں موسم میں بہتری کے بعد یاترا دوبارہ شروع کی گئی۔

      معلومات کے مطابق، وسطی کشمیر کے گاندھربل ضلع کے سونمرگ میں واقع بالٹال بیس کیمپ سے صبح سویرے جتھے کو روانہ کیا گیا، لیکن شدید بارش کی وجہ سے یاترا کو عارضی طور پر ملتوی کرنا پڑا۔ مسافروں کو بیس کیمپ میں رہنے کی ہدایت دی گئی۔ جموں و کشمیر کے محکمہ اطلاعات کی طرف سے کیے گئے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ یاترا ایک بار پھر سے شروع کی گئی ہے۔ اس سے شیو بھکتوں میں کافی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔

      وہیں، جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے 223 گاڑیوں میں 5838 امرناتھ یاتریوں کی 17ویں کھیپ ہفتہ کی صبح بم بم بھولے کے نعروں کے ساتھ پہلگام اور بالٹال کے لیے روانہ ہوئی۔

      پہلگام کے راستے سے روانہ ہونے والے 3291 مسافروں میں سے 2432 مرد، 700 خواتین، 15 بچے، 101 سادھو اور 43 سادھویاں شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی بالٹال کے راستے سے روانہ ہونے والے 2547 عقیدت مندوں میں سے 1648 مرد، 857 خواتین، 42 بچے شامل تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جموں وکشمیر: ملیٹنسی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھا رہی ہے سی آر پی ایف

      یہ بھی پڑھیں:
      جموں وکشمیر: اودھم پور میں ITBP جوان کی فائرنگ میں 3 ساتھی زخمی، بعد میں خود کو ماری گولی

      جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے یاترا کے آغاز کے بعد سے، تقریباً ایک لاکھ شیو عقیدت مند امرناتھ یاترا کے اگلے مراحل کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ وہیں، سرکاری ریکارڈ کے مطابق، تقریباً 1.62 لاکھ عقیدت مند اب تک شری امرناتھ کے مقدس غار میں ہملنگ کے درشن کر چکے ہیں۔ شری امرناتھ یاترا جو 29 جون سے شروع ہوئی تھی 11 اگست کو ختم ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: