உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر: ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ پر کانگریس کا اعتراض، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے اختیار کی خاموشی

    جموں و کشمیر: ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ پر کانگریس کا اعتراض، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے اختیار کی خاموشی

    جموں و کشمیر: ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ پر کانگریس کا اعتراض، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس نے اختیار کی خاموشی

    جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کے یونین ٹیریٹری (یو ٹی) انتظامیہ کے فیصلے پر حزب اختلاف کی مختلف سیاسی پارٹیاں ابھی بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کے یونین ٹیریٹری (یو ٹی) انتظامیہ کے فیصلے پر حزب اختلاف کی مختلف سیاسی پارٹیاں ابھی بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت جموں و کشمیر کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے والے دیگر ریاستوں کے مرد بھی اب جموں و کشمیر کی ڈومسائیل سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
    بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ضوابط میں تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔ پارٹی کی سینئر لیڈر اور سابق وزیر پریہ سیٹھی کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی قدم ہے کیونکہ اس سے جموں و کشمیر سے باہر شادی کرنے والی عورتوں اور ان کے افراد خانہ کو مزید حقوق  ملیں گے۔ انہوں نے حزب مخالف جماعتوں کانگریس، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس پر الزام عائدکیا کہ ان جماعتوں نے گزشتہ 70 برسوں کے دوران جموں و کشمیرکے عوام بالخصوص یہاں کی خواتین کے حقوق پر شب خون مارا ہے۔ پریہ سیٹھی نے کہا کہ بی جے پی نے دفعہ 370 اور 35 اے ختم کئے جانے کے موقع پر عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے حقوق بحال کئے جائیں گے اور یہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
    جموں وکشمیر کانگریس نے یوٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے نیوز 18 اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ  ایل جی انتظامیہ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کا اجرا کرنے کی آڑ میں من چاہے لوگوں کو جموں و کشمیر لارہے ہیں، جو سراسر غلط ہے۔ رویندر شرما نے کہا کہ سرکار نے دفعہ 370 اور 35 اے منسوخ کرنے کے موقع پر کہا تھا کہ یہ دفعات ختم ہونے کے بعد بھی زمین اور نوکریوں پر جموں و کشمیر کے پشتینی باشندوں کا اختیار برقرار رہے گا، لیکن سرکار اس کے برعکس اقدامات کر رہی ہے۔

    جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کے یونین ٹیریٹری (یو ٹی) انتظامیہ کے فیصلے پر حزب اختلاف کی مختلف سیاسی پارٹیاں ابھی بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔
    جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کے یونین ٹیریٹری (یو ٹی) انتظامیہ کے فیصلے پر حزب اختلاف کی مختلف سیاسی پارٹیاں ابھی بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔


    کانگریس ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوں کو نوکریاں حاصل کرنے میں مزید دشواریاں پیش آئیں گی اور یہاں کی تجارت پر بھی منفی اثر پڑےگا کیونکہ بقول ان کے باہر کے تجارت پیشہ افراد یہاں کی معیشت پر قابض ہوں گے، جس سے مقامی تاجروں کو نقصان سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے اور اس کا زیادہ اثرجموں صوبے پر ہی پڑے گا۔
    وہیں دوسری جانب حزب مخالف کی دیگر جماعتیں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ابھی اس معاملے پر بالکل خاموش ہیں۔ نیوز 18 اردو کے اس نمائندے نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے اس معاملے پر ان کا رد عمل جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں ابھی تک کوئی مکمل جانکاری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل جانکاری حاصل ہونے کے بعد ہی وہ اس معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی اس معاملے پر رائے جاننے کے لئے نیوز 18 اردو کے نمائندہ نے ان سے فون پر رابطہ کرنا چاہا تاہم بار بار کال کرنے کے باوجود انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔
    دوسری جانب جموں وکشمیر کی خواتین نے اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ جموں کی روحانی نامی ایک لڑکی نے اس فیصلے کو صیح قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کو مزید با اختیار بنانے سے تعبیر کیا۔ نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہر کے مرد سے شادی کرنے والی خواتین کا پورا خاندان  اب ڈومسائیل حاصل کرنے کا حقدار ہوگا۔ ایک اور خاتون اینجلینا نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے ختم ہونے کے بعد جموں وکشمیر سے باہر شادی کرنے والی خاتون کو ڈومیسائل حاصل کرنے کا حق تو مل گیا تھا، لیکن اس کے شوہر کو ابھی تک یہ حق حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط میں تبدیلی کئے جانے کے بعد ان کے شوہر کو بھی ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ مل سکتا ہے، جو ایک خوش آئند قدم ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: