உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K Neews: وادی میں جاری تشدد اور اقلیتی طبقہ پر حملوں کے درمیان دیکھنے کو ملی ہندو ۔ مسلم بھائی چارے کی انوکھی مثال، جائے کیا ہے معاملہ

    J&K Neews: وادی میں جاری تشدد اور اقلیتی طبقہ پر حملوں کے درمیان دیکھنے کو ملی ہندو ۔ مسلم بھائی چارے کی انوکھی مثال، جائے کیا ہے معاملہ

    J&K Neews: وادی میں جاری تشدد اور اقلیتی طبقہ پر حملوں کے درمیان دیکھنے کو ملی ہندو ۔ مسلم بھائی چارے کی انوکھی مثال، جائے کیا ہے معاملہ

    Jammu and Kashmir : کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کی ہلاکت کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال سے ایک خلا پیدا ہوا اور اقلیتی طبقے کے لوگ کافی ڈرے اور سہمے نظر آ رہے ہیں ۔ ایسے میں وائی کے پورہ قاضی گنڈ میں ایک مرتبہ پھر ہندومسلم بھائی چارے کی مثال دیکھنے کو ملی ہے ۔

    • Share this:
    کولگام : وادی کشمیر میں گزشتہ سالوں سے جاری تشدد اور قتل و غارت سے یہاں کے عام لوگ کافی متاثر ہوئے ہیں ، تاہم بھائی چارے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی روایتی ہندو ۔ مسلم بھائی چارے کی مثال دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں ہے ۔ کشمیری پنڈت ملازم راہل بھٹ کی ہلاکت کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال سے ایک خلا پیدا ہوا اور اقلیتی طبقے کے لوگ کافی ڈرے اور سہمے نظر آ رہے ہیں ۔ ایسے میں وائی کے پورہ قاضی گنڈ میں ایک مرتبہ پھر ہندومسلم بھائی چارے کی مثال دیکھنے کو ملی ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : Pakistanکی سازش ناکام، سرحدپار سے آرہے ڈرون پر BSF نے برسائی گولیاں، واپس جانے کو ہوامجبور


    یہاں مقیم 80 سالہ کشمیری پنڈت خاتون دُلاری بٹ زوجہ جانکی ناتھ کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات یہاں کے مقامی مسلمانوں نے انجام دی ۔ دلاری بٹ نے اپنی پوری زندگی علاقہ کے لوگوں کے ساتھ گذربسر کی اور یہاں کی آبادی نے انہیں پُرنم آنکھوں سے الوداع کہا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحومہ دُلاری بٹ اپنے رشتہ داروں کے یہاں گئی تھی ، جہاں پر ان کی صحت بگڑ گئی اور ان کی موت اپنے مقامی علاقہ میں ہوئی ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ایل جی منوج سنہا کا بڑا فیصلہ، راہل بھٹ قتل معاملے کی جانچ کرے گی ایس آئی ٹی


    بڈگام واقعہ کے بعد وائی کے پورہ علاقے میں بھائی چارے کی اس مثال نے ایک بار پھر انسانیت کو زندہ کردیا ہے۔  دُلاری بٹ کے فرزند سبھاش بٹ کا کہنا ہے کہ ان کے اہل و عیال نے ہجرت نہیں کی جبکہ ان کے والدین نے پوری زندگی آبائی علاقے میں گزر بسر کی اور یہاں کے مقامی مسلمانوں نے انہیں ہمیشہ تعاون فراہم کیا ، جس کی مثال آج بھی دیکھنے کو ملی ۔

    مقامی مسلم خاتون ساجہ بانو ، مرحومہ کی اچھی دوست تھیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا ایک ساتھی بچھڑ گیا ، انہیں دلاری دیوی کی کافی یاد آرہی ہے اور اس کو پُرنم آنکھوں سے یاد کیا ۔ مقامی مسلمانوں اور کشمیری پنڈتوں کا یہ اٹوٹ بھائی چارہ آج کی نفرت سے بھری دنیا کیلئے ایک مشعل راہ ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: