உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے پیش نظر حکومت فکر مند، جموں و کشمیر میں اعلی سطحی میٹنگ کا ہوا انعقاد

    جموں و کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں جموں کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ اور جموں و کشمیر میں تعینات دیگر نیم فوجی عملے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں دہشگت گردوں کی کاروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے مزید فعال حکمت عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔

    جموں و کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں جموں کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ اور جموں و کشمیر میں تعینات دیگر نیم فوجی عملے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں دہشگت گردوں کی کاروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے مزید فعال حکمت عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔

    جموں و کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں جموں کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ اور جموں و کشمیر میں تعینات دیگر نیم فوجی عملے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں دہشگت گردوں کی کاروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے مزید فعال حکمت عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی ہفتوں سے دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جہاں ایک طرف دہشت گرد کشمیر وادی میں ٹارگیٹ کلنگس انجام دے رہے ہیں۔ وہیں جموں خطے کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں بھی دہشت گردوں کی موجودگی دیکھی جارہی ہے۔ اگرچہ حفاظتی عملہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے مؤثر حکمت عملی پر گامزن ہے تاہم دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے پیش نظر سرکار فکر مند دکھائی دے رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں امن قانون کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے نو نومبر کو جموں کے سیول سیکریٹریٹ میں اعلی سطح کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔ جموں و کشمیرکے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقدہ اس میٹنگ میں جموں کشمیر کے ڈی جی پی دلباغ سنگھ اور جموں و کشمیر میں تعینات دیگر نیم فوجی عملے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں دہشگت گردوں کی کاروائیوں کو ناکام بنانے کے لئے مزید فعال حکمت عملی مرتب کرنے پر زور دیا گیا۔

    واضح رہے کہ چند دنوں کے وقفے کے بعد دہشت گردوں نے کشمیر میں سات اور آٹھ نومبر کو مزید دو افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے سات نومبر کی شام کو ایس ڈی کالونی بٹہ مالو سرینگر میں توسیف احمد نامی ایک پولیس اہلکار پر اسکے گھر کے پاس نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے وہ شدید زخمہ ہوا۔ اگرچہ توسیف کو فورا اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ ایسے ہی ایک اور انسانیت سوز واقع میں دہشت گردوں نے پیر کے روز سیرنگر کے بہوری کدل علاقے میں ایک سیلز مین پر نزدیک سے گولیاں چلائیإں جس سے وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا۔ محمد ابراہیم خان نامی اس سیلز میں کو اگرچہ نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ گزشتہ لگ بھگ ایک ماہ سے کشمیر وادی میں ٹارگیٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لئے اگرچہ حفاظتی عملہ مزید چوکس ہے تاہم دہشت گردوں کے ان ناپاک عزائیم کو مکمل طور پر ناکام کرنے میں ابھی تک سرکار کامیاب نہیں ہوپائی ہے۔

    گزشتہ دو روز کے دوران سرینگر میں پیچش سآئے ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کے بعد سرینگر شہر کے کئی علاقوں میں خصوصی تلاشی کاروائی شروع کی گئی ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر راہگیروں کی جامہ تلاشی کی جارہی ہے تاکہ ممکنہ ملی ٹنٹ حملے کو روکا جاسکے۔


    کشمیر وادی کے ساتھ ساتھ جموں خطے کے راجوری اور پونچھ اضلاع میں بھی دہشت گردوں کی حرکات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پونچھ ضلع کے سُرنکوٹ علاقے میں ڈھیرہ کی گلی مقام پر گیارہ اکتوبر کو دہشت گردوں کی حرکت دیکھی گئی جس کے بعد فوج نے علاقے میں گھیرائو کرکے تلاشی کاروائی شروع کر دی تاہم دہشت گردوں کے بارے میں کوئی سُراغ مل نہیں پایا۔تین روز کے بعد اسی ضلع کے مینڈھر علاقے میں بٹہ دوریاں مقام کے قریب ایک بار پھر فوج اور دہشت گردوں کے بیچ گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ ان جھڑپوں ے دوران فوج کے دو جونئیر کمشنڈ افسران سمیت نو فوجی اہلکار شہید ہوئے تاہم دہشت گردوں کی ہلاکت کے بارے میں ابھی تک کوئی جانکاری نہیں مل پائی ہے۔ حفاظتی عملے نے ان علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے دہشت گردوں کے مدد گاروں کی تلاش شروع کردی ہے اور اطلاعات کے مطابق ابھی تک دو درجن سے زیادہ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن پر دہشت گردوں کی اعانت کرنے کا الزام ہے۔

    ان سب حالات کے پیش نظر لیفٹننٹ گورنر کی صدارت میں ہوئی سلامتی صورتحال سے متعلق آجکی میٹنگ کافی اہم مانی جارہی ہے اطلاعات کے مطابق ایل جی منوج سنہا دلی میں بُدھ کے روز محکمہ وزارت داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر سے متعلق ہونے والی میٹنگ میں شرکت کریں گے جس میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لے کئی اہم فیصلے لئے جانے کی توقع ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: