உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاسی تجزیہ کاروں کا وزیر داخہ امت شاہ کے چار روزہ جموں۔کشمیر دورے کو لیکر کیا کہنا ہے، جاننا بیحد ضروری

    Youtube Video

    اپنے دورے کے دوران امت شاہ نے اس وقت سب کو حیران کردیا جب انہوں نے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ رات گزاری۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: وزیر داخہ امت شاہ (Amit shah) نے جموں و کشمیر کا اپنا چار روزہ دورہ مکمل کیا ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے جموں و کشمیر (jammu and kashmir) کے امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ یوٹی کے عوام کو درپیش مختلف معاملات کا برسر موقع جائزہ لیا۔ امت شاہ نے پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کرنے کی بھی کوشش کی۔ دفعہ تین سو ستر اور پنتیس اے کی منسوخی کے بعد اپنے جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے دوران وزیر داخلہ نے وادی کشمیر کی سلامتی صورتحال کا جائزہ لے کر ضروری لائح عمل مرتب کرنے کے لئے حفاظتی ایجنسیوں کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ دورے کے آغاز میں امت شاہ نے دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوئے پلیس انسپیکٹر پرویز احمد کے گھر جاکر تعزیت پرسی کرکے یہ پیغام دیا کہ سرکار ملک اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے دوران اپنی جانیں نچھاور کرنے والے شہیدوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ اپنے دورے کے دوران امت شاہ نے اس وقت سب کو حیران کردیا جب انہوں نے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ رات گزاری۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر داخلہ نے یہ فیصلہ اس لئے لیا تاکہ ملک اور قوم کی حفاظت کرنے والے حفاظتی عملے کے اہلکاروں کے حوصلے کو بلند کیا جاسکے۔ اپنے دورے کے دوران مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی والی سرکار کے اس عزم کو دُہرایا کہ سرکار جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں ترقیاتی عمل کو آگے لے جانے کی وعدہ بند ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کی طرفسے جموں و کشمیر میں از خود جائزہ لینے کے لئے کئے گئے اس دورے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ سرکار بند کمروں میں بیٹنے کے بجائے زمینی سطح پر حالات کا جائزہ لینے اور معاملات نپٹانمے میں یقین رکھتی ہے۔

    معروف تجزیہ نگار پریکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی جموں و کشمیر کے بارے میں کئی پالسیاں اور پروجیکٹ مرتب کی جاتی رہی ہیں تاہم وزیر داخلہ کی طرفسے جموں و کشمیر میں مختلف لوگوں سے گفت و شنید کرنے کے بعد پلان مرتب کرنا کافی سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے پریکھشت منہاس نے کہا، وزیر داخلہ انفرادی طور پر جموں و کشمیر کے دورے پر نہیں آئے تے بلکہ وزارت داخلہ کی پوری ٹیم انکے ساتھ تھی اور لوگوں سے بات کرنا اور انکی خود سُننا ایک مثبت قدم ہے اور اسکے آنے والے وقت میں مثبت نتائیجک دیکھنے کو ملیں گے۔ نوجوان طبقے کے ساتھ قریبی رابطہ بنانے کے لئے یوتھ کلب کی وساطت سے امت شاہ کی کوشش کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک کارگر قدم ثابت ہوگا۔ پریکھشت منہاس نے کہا، نوجوان نسل نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کا تقدیر بدل سکتی ہے ایسے میں ضرورت اسبات کی ہے کہ نوجوانوں کی سوچ کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے ، انہیں غلط اور صیح کا فرق سمجھایا جائے تاکہ وہ قوم کی بھلائی کے لئیے اپنا کردار نبھا سکیں۔

    وزیر داخلہ نے نوجوانوں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کرکے اسی کوشش کو آگے بڑھایا ہے جسکے مثبت نتائیج سامنے آئیں گے۔ پریکھشت منہاس نے کہا کہ نوجوانوں کی بہبود کے لئے ماضی کی سرکاریں بھی پلان اورسکیمیں مرتب کرتی آئی ہیں تاہم کئی ایسے منصوبے جموں و کشمیر میں عملانے میں دقتیں پیش آتی تھیں جسکے نتیجے میں انکا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ پاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ کے اس دورے سے یہ عیاں ہے کہ سرکار ایسے پروجیکٹ شروع کرنا چاہتی ہے جو کشمیر میں عملائے جاسکیں گے تاکہ نوجوان نسل کو ان منصوبوں کو فائدہ ملے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پروجیکٹوں کی زمینی سطح پر عمل آوری کے لئے پیشہ ورانہ نوجوانوں کو اس عمل میں شامل کیا جانا چاہئے۔

    سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں جمہوریت کو زمینی سطح پر مزید مظبوط کرنے کی کوشاں ہے جسکی مثال جموں و کشمیر میں پنچایتی اور دیگر بلدیاتی اداروں کے چناؤ کرانا ہے۔ اس عمل کے دوران تیس ہزار عوامی نمائیندے منتخب ہوئے ۔ پریکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر میں حالات میں بہتری ہونے کے ساتھ ہی اسمبلی انتخابات منعقد کرا سکتی ہے تاکہ عوامی نمائیندے لوگوں کے مسائیل کو حل کرنے کے لئے جمہوری سرکار کا حصہ بنیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: