உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر داخلہ امت شاہ اور منوج سنہا کے درمیان ملاقات آج، کشمیر میں دہشت گردوں پر ہوگی بڑی کارروائی!

    وزیر داخلہ امت شاہ اور منوج سنہا کے درمیان کل ملاقات، کشمیر میں دہشت گردوں پر ہوگی بڑی کارروائی!

    وزیر داخلہ امت شاہ اور منوج سنہا کے درمیان کل ملاقات، کشمیر میں دہشت گردوں پر ہوگی بڑی کارروائی!

    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا (Manoj Sinha) کو دہلی بلایا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ وزیر داخلہ-لیفٹیننٹ گورنر کی اس میٹنگ میں دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جموں وکشمیر میں عام شہریوں کی ٹارگیٹ کلنگ (Target Killings) کے موضوع پر آج بروز ہفتہ راجدھانی دہلی میں بڑی میٹنگ ہوگی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا (Manoj Sinha) کو دہلی بلایا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ- لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی اس میٹنگ میں دہشت گردوں کے خلاف سخت ایکشن پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

      دراصل، جموں وکشمیر میں عام شہریوں کو پاکستانی دہشت گرد تنظیموں کے اشارے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق، پاکستانی تنظیم ان حملوں میں کشمیر کے ہائی برڈ یا پارٹ ٹائم دہشت گردوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ پارٹ ٹائم یا ہائی برڈ دہشت گرد معمول کے مطابق نوکریاں کرتے ہیں اور عام شہریوں کو چھوٹے ہتھیار یعنی پستول سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ حملہ کرنے کے بعد یہ اپنی معمول کے مطابق زندگی جینے لگتے ہیں۔

      دو دنوں میں پانچ عام شہریوں کا قتل ہوا

      ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کو ایسے نوجوانوں کے بارے میں اِن پُٹ ملے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی پہچان تیزی سے کی جارہی ہے۔ دراصل کشمیر میں گزشتہ دو دنوں میں پانچ عام شہریوں کا قتل ہوا ہے۔ اس کے بعد وادی میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

      سخت ایکشن کی وجہ سے بدلی تبدیلی

      کشمیر کے آئی جی وجے کمار نے کہا ہے ’اس سال اب تک 28 عام شہریوں کا قتل کیا ہے، جن میں 5 مقامی ہندو سکھ برادری سے ہیں۔ گزشتہ وقت میں پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے سخت ایکشن کی وجہ سے مایوس ہوکر اب دہشت گردوں نے اب حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ یہ حملے نئے ریکروٹ کر رہے ہیں۔ ان سبھی کی پہچان کی جارہی ہے اور سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: