உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امرین بھٹ کے والد محمد خضر کا چھلکا درد، میرا گھر ویران ہوگیا، میری بیٹی کی ہلاکت کے ساتھ میں بھی ہلاک ہوگیا

    Youtube Video

    Amreen Bhat's father described the pain: امرین کے والد خضر محمد نے انتظامیہ کے خلاف بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ انکے پاس انتظامیہ کی جانب سے کوئی نہیں آیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غریب ہیں اور غریب کی کوئی نہیں سنتا۔

    • Share this:
      Amreen Bhat murder case: جموں کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک مرتبہ پھر سے ملیٹنٹوں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اس مرتبہ ایک خاتون کو ملیٹنٹوں نے ہلاک کیا۔ یہ واقعہ گزشتہ شب چاڈورہ بڈگام کے ہوشرو میں پیش آیا جب امرین نامی خاتون کے گھر میں گھس کر ملیٹنٹوں نے اسے گولیاں چلائی ۔ اس دوران امرین کا دس سالہ بھتیجہ بھی زخمی ہوا تاہم اسکی حالت مستحکم ہے اور وہ بونز اینڈ جوائنٹس اسپتال برزلہ سرینگر میں زیر علاج ہے۔
      امرین کی ہلاکت کے بعد پورہ علاقہ غم میں ہیں اور لوگ لگاتار انکے گھر تعزیت کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ امرین کے والد خضر محمد نے کئی سوالات کھڑے کئے۔ ان کا کہنا تھا یہ آزادی نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے ایک گھر کو ویران بنادیتے ہیں اور آج میرا بھی گھر ویران ہوگیا۔

      "میری بیٹی میرا گھر چلاتی تھی اسکی ہلاکت سے اب میں بھی ہلاک ہوگیا"۔
      امرین کی بہن رضیا کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہورہا کہ میری بہن کو مار دیا گیا۔ وہ غم میں ہیں اور کہتی ہیں کہ انہوں نے سب اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح انکی بہن کو گولیاں چلا کر مار دیا گیا"۔ رضیا انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے ۔
      امرین کے والد خضر محمد نے انتظامیہ کے خلاف بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ انکے پاس انتظامیہ کی جانب سے کوئی نہیں آیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غریب ہیں اور غریب کی کوئی نہیں سنتا۔
      انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں ملیٹنسی کا جلد خاتمہ کیا جائے تاکہ کوئی اور گھر نہ اجڑ جائے۔

      Awantipora encounter: امرین بھٹ کا قتل کرنے والے دونوں دہشت گرد ڈھیر، J&Kپولیس نے کی تصدیق


      واضح وادی میں آئے روز ملیٹنٹ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اگر بات وسطی کشمیر کے بڈگام کی کریں تو گزشتہ چند ماہ سے یہ ملیٹنٹ حملوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے میں یہ سکیورٹی فورسس کے لئے بڑا چیلینج ہے کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کس طرح کے اقدامات اٹھائیں گے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: