உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سری نگر میں انکاونٹر، ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک، پولیس نے کہا- دہشت گرد کا ساتھی فرار ہوا

    سری نگر میں انکاونٹر، ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک، پولیس نے کہا- دہشت گرد کا ساتھی فرار ہوا

    سری نگر میں انکاونٹر، ایک مبینہ دہشت گرد ہلاک، پولیس نے کہا- دہشت گرد کا ساتھی فرار ہوا

    سری نگر میں پولیس نے ایک انکاونٹر کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رات کے 8:15 منٹ کے قریب دو دہشت گردوں نے سری نگر کے نٹی پورہ علاقہ میں پولیس کی ایک ناکہ پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا، لیکن ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔

    • Share this:
    سری نگر: سری نگر میں پولیس نے ایک انکاونٹر کے دوران ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق رات کے 8:15 بجے  تقریباً دو مبینہ دہشت گردوں نے سری نگر کے نٹی پورہ علاقہ میں پولیس کی ایک ناکہ پارٹی پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا، لیکن ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ مارے گئے  دہشت گرد کی پہچان عاقب کمار کے طور پر ہوئی ہے، جو جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے ترنزو علاقہ سے تعلق رکھتا تھا۔

    پولیس کے مطابق جائے واردات سے ایک اے کے رائفل اور دو میگزین بر آمد کئے گئے ہیں۔ علاقہ میں اس جھڑپ کے بعد کافی دیر تک پولیس اور سی آر پی ایف نے تلاشی مہم جاری رکھی، لیکن آخری خبریں آنے تک دوسرے مبینہ دہشت گرد کا کوئی پتہ نہیں پتہ چل پایا۔ مارے گئے دہشت گرد کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ سال 2020 سے ملیٹنسی سے وابستہ تھا، یعنی دہشت گردانہ صفوں میں شامل ہوگیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق عاقب کل سرینگر کے مضافات میں دو اساتذہ کو قتل کرنے کی ۔واردات میں شامل تھا لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوپائی ہئے۔ سرینگر میں پچھلے دو دن میں 5عام شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا اور اس سے قبل بھی دو اور عام شہریوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ کل رات اننت ناگ میں سی آر پی ایف نے ایک عام شہری کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

    پولیس کے پریس نوٹ کے مطابق مارا گیا شخص ایگ گاڑی میں سوار تھا اور جب ایک ناکہ۔پارٹی نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا وہ نہیں رُکا جس کے بعد اُس پر گولی مار دی گئی۔ پولیس کے مطابق اس سال ابھی تک 29عام شہری مارے گئے ہیں جن میں سے آٹھ کا تعلق  اقلیتی طبقہ سے تھا اور دو غیر ریاستی باشندے بھی شامل تھے۔ حالیہ واقعات کے بعد کشمیر میں کافی دہشت ہئے اور چاروں طرف سے انتظامیہ پر تنقید ہو رہی ہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: