உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اری سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کو فوج نے بنایا ناکام، 1درانداز ہلاک، دوسرا زندہ پکڑا گیا

    فوج کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر امن کی طرف لوٹ رہی ہے  اس سے پاکستان بوکھلا گیا ہے۔

    فوج کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر امن کی طرف لوٹ رہی ہے اس سے پاکستان بوکھلا گیا ہے۔

    فوج کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر امن کی طرف لوٹ رہی ہے اس سے پاکستان بوکھلا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    فوج نے بارہمولہ ضلع کے اری سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا۔ جس دوران ایک درانداز کو ہلاک کیاگیاجبکہ ایک اور پاکستانی درانداز نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔ آپریشن کی تفصیلات دیتے ہوئے فوج کے انیس انفنٹری کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ورندر وتس نے کہاکہ پاکستانی دہشت گردوں نے اٹھارہ اور انیس ستمبر کی درمیانی رات کو اری سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوشش کی اور اسے ہندوستانی فوج نے ناکام بنادیا۔ اندھیری رات، گھنے جنگلات اور خراب موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے اری سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر اپنے ایک پوسٹ سے لشکر طیبہ کے چھ دہشت گردوں پر مشتمل گروہ کو اس پار دھکیلنے کی کوشش کی۔ دراندازی کی کوشش کے دوران جب دو دہشت گرد لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہوئے دیکھے گئےتو ہندوستانی فوج کی گشتی پارٹی نے ان کا گھراؤکیا اور اس کے بعد ان کا آمنا سامنا ہوا۔ اس دوران چار دہشت گرد اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر ایل او سی کے اس پار واپس بھاگ گئے جبکہ دیگردو دہشت گرد کنٹرول لائن کے اس پار داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

    دہشت گردوں کی کارستانی کو دیکھتے ہوئے اری سیکٹر میں اسی وقت اضافی فورسز کو اس آپریشن میں شامل کیا گیا اور مشتبہ علاقوں میں متعدد گشت اور سرچ آپریشن شروع کیے گئے اور آنے اور جانے والے تمام راستے بند کردیئے گئے۔ رواں مہینے کی پچیس ستمبر کی رات گشت کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ لائن آف کنٹرول کے اندر تقریبا آٹھ سو میٹر کے فاصلے پر آمنا سامنا ہواتھا۔ بالآخر 26 ستمبر 2021 کی دوپہر تک جاری کاروائی میں ایک پاکستانی تینتیس سالہ دہشت گرد عتیق الرحمٰن عرف قاری انس کو ہلاک کیاگیا ،جس کا تعلق پنجاب پاکستان سے تھا جبکہ پنجاب پاکستان سے تعلق رکھنے دوسرے درانداز علی بابا پاترا کو اس کی اپیل پر کوئی نقصان پہنچائے بغیر زندہ پکڑ لیا گیا۔ میجر جنرل وتس نے کہاکہ دہشت گردوں نے دراندازی کے لئےجبری پوسٹ کے قریب واقع سوائی نالہ ہالان شمالی لانچ پیڈ سے سلام آباد نالے سے لگنے والے راستے سے دراندازی کی تھی۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ سلام آباد نالہ سے دہشت گردوں نے 2016 میں پاکستانی فوج کی مدد سے دراندازی کی اور اری کے فوجی کیمپ پر خودکش حملہ کیاتھا۔ ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد نے انکشاف کیا ہے کہ ان چھ دہشت گردوں کے گروپ کا تعلق بنیادی طور پر پاکستانی پنجاب سے ہی تھا۔ میجر جنرل وتس نے کہاکہ ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد نے کہاکہ اسےگمراہ کرکے پیسوں کی لالچ دیگر لشکر طیبہ میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیاگیا۔جی او سی نے کہاکہ گرفتار شدہ دہشتگرد نے انکشاف کیاکہ اس نے 2019 میں گڑھی حبیب اللہ کیمپ میں تین ہفتوں کی ابتدائی تربیت حاصل کی جس کے بعد 2021 میں ریفریشر ٹریننگ کی ۔ دہشت گرد سے انکشاف ہوا کہ ہتھیاروں کی تربیت کے لیے کام کرنے والے زیادہ تر انسٹرکٹر پاکستانی فوج کے اہلکار تھے۔

    ہتھیار ڈالنے والے دہشت گرد کے مطابق ، عتیق الرحمٰن قاری پنڈی ، ضلع اٹک ، پنجاب پاکستان نے اسے اپنی والدہ کے علاج کے لیے 20،000 روپے دیے تھے اور اسے 30،000 روپے اضافی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جی او سی نے کہاکہ گرفتار شدہ دہشتگرد نے انکشاف کیاکہ اس کے ساتھ وعدہ کیاگیا تھا کہ وہ بارہمولہ کے پٹن میں ہتھیاروں کی کھیپ پہنچانے کے بعد بحفاظت واپس لوٹ کر یہ رقم حاصل کرسکتا ہے۔ جی او سی نے کہاکہ ایسا معلوم ہورہا ہے کہ دہشت گرد ہتھیاروں کی کھیپ پہنچانے کے بجائے کشمیر میں کوئی بڑا حملہ انجام دینے کے لیے بھیجے گئے تھے۔واضح رہے کہ اری سیکٹر میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فوج کے ساتھ تصادم میں سات درانداز ہلاک کئے گئے ہیں۔

    فوج کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر امن کی طرف لوٹ رہی ہے  اس سے پاکستان بوکھلا گیا ہے۔ فوج کے مطابق دراندازی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان سرحد پار سے کشمیر میں دہشت گردی کو برقرار رکھنے اور وادی میں پرتشدد واقعات کو منظم کرنے کے لیے ہتھیار بند دہشت گردوں کو کنٹرول لائن کے اس پار دھکیل رہاہے تاہم فوج پاکستان کے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ جی او سی کے مطابق دہشت گردوں کو کنٹرول لائن کے اس پار بھیجنے میں پاکستانی فوج سرگرم عمل ہے۔کیونکہ پاکستانی فوجی کمانڈروں کے فعال تعاون کے بغیر دراندازوں کاکنٹرول لائن عبور کرناناممکن ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: