உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: جموں میں ہندو مسلم بھائی چارے کی ایک اور مثال، مسلمانوں نے امرناتھ یاتریوں کا پھولوں کی مالا پہنا کر کیا استقبال

    J&K News: جموں میں ہندو مسلم بھائی چارے کی ایک اور مثال، مسلمانوں نے امرناتھ یاتریوں کا پھولوں کی مالا پہنا کر کیا استقبال

    J&K News: جموں میں ہندو مسلم بھائی چارے کی ایک اور مثال، مسلمانوں نے امرناتھ یاتریوں کا پھولوں کی مالا پہنا کر کیا استقبال

    Amarnath Yatra 2022: جموں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایک مظاہرے میں جموں کے مسلمانوں نے جمعہ کے روز امرناتھ یاترا پر جانے والے یاتریوں کا مٹھائی اور کھانے کے ساتھ استقبال کیا، جس پر یاتری کافی خوشی ہوئے ۔

    • Share this:
    جموں : جموں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایک مظاہرے میں جموں کے مسلمانوں نے جمعہ کے روز امرناتھ  یاترا پر جانے والے یاتریوں کا مٹھائی اور کھانے کے ساتھ استقبال کیا، جس پر یاتری کافی خوشی ہوئے ۔ یاتریوں نے بتایا کہ مسلمان ہمیشہ سے ہی یاترا پر جانے والے عقیدت مندوں کے لیے پیش پیش رہے ہیں ۔ ممتاز گجر رہنماؤں چوھدری حسین علی وفا اور پرویز وفا نے جموں پٹھانکوٹ ہائی وے پر کنجوانی چوک کے قریب لنگر (کمیونٹی کچن) لگایا اور یاتریوں کو پھولوں کے ہار پہنا کر اور مٹھائیاں پیش کرکے خوش آمدید کہا ۔ جموں ضلع میں داخل ہونے پر ان میں پرشاد تقسیم کیا گیا ۔ جموں کے مسلمانوں کی طرف سے یہ اشارہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مسلمان معطل بی جے پی رہنما نوپور شرما کے بیان کی وجہ سے کافی غصے میں ہیں ۔ اس کو لے کر ملک بھر میں احتجاج مظاہرے ہوئے تھے ۔   چناب وادی کے کچھ حصے بشمول بھدرواہ سخت کرفیو کے تحت بند رہے اور دونوں برادریوں کے پرتشدد مظاہروں اور سوشل میڈیا پر ہونے والے نعروں کے بعد ایک ہفتے سے زیادہ  انتظامیہ کو انٹرنیٹ خدمات کو معتل کرنا پڑا تھا ۔ تاہم آہستہ آہستہ اب حلات پٹری پر آگتے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : امرناتھ یاترا کے دوسرے دن ہزاروں یاتریوں نے مقدس گپھا میں کۓ درشن


    اس موقع پر چوھدری حسین علی وفا نے کہا کہ یہ خطہ ہمیشہ سے جامع ثقافت، بھائی چارے اور باہمی بھائی چارے کی علامت رہا ہے اور یہ یاترا ہمیں مقدس گپھا کی زیارت کرنے والے ہزاروں یاتریوں کی میزبانی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وفا نے امید ظاہر کی کہ یاتری امن کے سفیر کے طور پر کام کریں گے اور برادریوں کے درمیان پل کا کام کریں گے اور ریاست میں امن امان قائم کرنے میں مدد کریں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: حتمی ووٹر لسٹ 31 اکتوبر کو ہوگی جاری، حدبندی کے بعد الیکشن کمیشن کررہا ہے تیار


    وفا نے راجستھان کے ادے پور شہر میں ایک درزی کے قتل کی شدید مذمت کی اور اس واقعہ کو ہولناک اور گھنونا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں صرف مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہچانے کی کوشش تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مہذب معاشرے میں ایسے مجرموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی برادری سے ہو۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اس گھنونے جرم کے مرتکب دونوں مجرموں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائے ۔

     

    انہوں  نے کہا کہ جموں و کشمیر کا بھائی چارے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، لیکن شرپسند عناصر اپنے مفادات کے لئے لوگوں کو مذہب کے نام پر آپس میں لڑاتے ہیں ۔ ان کوشش ہے کہ یہاں ہمیشہ بھائی چارہ بنا رہے، جس سے امن و امان بھی قائم رہے گا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: