உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مٹن کے سوریہ مندر میں چھڑی مبارک کے استقبال کے دوران مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم

     واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا کے دوران انتظامیہ کے اشتراک سے مقامی لوگوں نے پھر ایک بار قابل تعریف کام انجام دیا۔ جبکہ یہ یاترا 12 اگست کو شراون پورنما کے موقع پر مقدس امرناتھ گپھا میں خصوصی پوجا کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا کے دوران انتظامیہ کے اشتراک سے مقامی لوگوں نے پھر ایک بار قابل تعریف کام انجام دیا۔ جبکہ یہ یاترا 12 اگست کو شراون پورنما کے موقع پر مقدس امرناتھ گپھا میں خصوصی پوجا کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا کے دوران انتظامیہ کے اشتراک سے مقامی لوگوں نے پھر ایک بار قابل تعریف کام انجام دیا۔ جبکہ یہ یاترا 12 اگست کو شراون پورنما کے موقع پر مقدس امرناتھ گپھا میں خصوصی پوجا کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہوگی۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: شری امرناتھ جی یاترا کے چلتے چھڑی مبارک آخری درشن کےلیے مقدس گپھا کی جانب روانہ ہوئی اور شراون پورنما کے موقع پر وہاں پر خصوصی پوجا کے ساتھ ہی اس سال کی امرناتھ یاترا اختتام پزیر ہوگی۔ مٹن کے سوریہ مندر میں نہ صرف کشمیری پنڈتوں بلکہ مقامی مسلمانوں اور سکھوں نے بھی چھڑی مبارک کا والہانہ استقبال کیا۔ سرینگر کے دشنام اکھاڑے سے 7 اگست کو چھڑی مبارک نکل کر پہلگام پہنچی تھی اور دو رات وہاں پر گزارنے کے بعد منگلوار کے روز مہنت دپیندرا گری کی نگرانی میں چھڑی مبارک یاترا کے دوسرے پڑاؤ چندن واڑی پہنچ گئی جہاں پر رات بھر قیام کے بعد کل یعنی 10 اگست کو چھڑی مبارک شیش ناگ کی جانب روانہ ہو گی۔

    اس سے قبل جنوبی کشمیر کے مٹن کے معروف مارٹنڈ سوریہ مندر میں اسلامی نعت اور منقبت پڑھتے پڑھتے کشمیری پنڈتوں نے مقدس چھڑی مبارک کا استقبال کیا اور پھر ایک بار کشمیر میں مزیبی ہم آہنگی اور رواداری کی مثال پیش کی۔ کشمیری پنڈتوں نے حسب روایت چھڑی کا استقبال کشمیری طرز کے مطابق کیا اور نہ صرف نعت بلکہ بھجن اور کیرتن بھی گایا گیا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ امرناتھ یاترا کی یہی خاصیت رہی ہے کہ یہ یاترا محض ہندوؤں کی نہیں بلکہ کشمیریت کی عکاسی کرتی آئی ہے۔

    مارٹنڈ پروہت سبھا کے صدر اشوک کمار سدھا کا کہنا ہے کہ مٹن سوریہ مندر میں امرناتھ یاترا کے دوران چھڑی مبارک دو دن قیام کرتی تھی لیکن حالات خراب ہونے کے بعد اب خصوصی پوجا کے بعد چھڑی مبارک پہلگام روانہ ہوتی ہے۔ لیک اس دوران ماضی کی طرح اب بھی مٹن میں بلا امتیاز مزہب و ملت لوگ چھڑی مبارک کے استقبال میں کھڑے رہتے ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، جسے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مٹن ہمیشہ سے ہندو، مسلم ، اکھ اتحاد کا گہوارہ رہا ہے۔ ایک اور کشمیری پنڈت شانتی لال سدھ کا کہنا ہے کہ یہ یاترا محض ہندووں کی یاترا نہیں ہے بلکہ یہ یاترا کشمیر کے صدیوں پرانے تمدن، ثقافت اور بھائی چارے سے جڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں پر نہ صرف لیلا اور بھجن گاۓ گۓ بلکہ مسلمانوں کی موجودگی میں اسلامی نعت اور منقبت بھی پڑھے گئے۔

    مہنت دپیندرا گری کی نگرانی میں مٹن میں شیو اور شکتی کی پرتیک دونوں چھڑیوں کا مقدس اشنان ہوا اور خصوصی پوجا کے دوران کشمیر میں قیام امن اور ملک کی خوشحالی کی پراتھنا کی گئی۔ جبکہ مٹن کے اس مقدس مقام سے پیار و محبت کا پیغام پھر ایک بار بلند ہوا۔

     

    چھڑی مبارک کے استقبال میں کھڑے کشمیری مسلمانوں اور سکھوں نے یہ بات پھر سے ثابت کر دی کہ مزہب نہیں سکھاتا آپس میں بھیر رکھنا " ۔ لیکن کچھ ایسی طاقتیں ضرور ہیں جو اس بھائ چارگی میں درار ڈالنے کی بے جا کوشش کرتے ہیں۔ عارف بلوچ نامی ایک مقامی شخص نے کہا کہ امرناتھ یاترا کے ساتھ کشمیریوں کا رشتہ سوئ اور داغے جیسا رہا ہے اور ماضی میں کچھ عناصر نے اس رشتے کو توڑنے کی کوششیں ضرور کی لیک وہ یہاں کے بھائی چارے کی وجہ سے وہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔

    بہار میں ٹوٹا NDA گٹھ بندھن، الگ ہوئی نتیش کمار بی جے پی کی راہیں

    نابالغ لڑکی کا اغوا کرکے کیا Rape، مذہب تبدیل نہ کرنے پر دی جان سے مارنے کی دھمکی
    واضح رہے کہ اس سال شری امرناتھ جی یاترا کے دوران انتظامیہ کے اشتراک سے مقامی لوگوں نے پھر ایک بار قابل تعریف کام انجام دیا۔ جبکہ یہ یاترا 12 اگست کو شراون پورنما کے موقع پر مقدس امرناتھ گپھا میں خصوصی پوجا کے ساتھ ہی اختتام پزیر ہوگی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: