ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: جعلی افسر بن کر لڑکیوں کو پھنسانے اور نوکری کا جھانسہ دینے کے الزام میں اننت ناگ کا شخص گرفتار

جموں وکشمیر کی سائبر پولیس نے آئی سی ڈی ایس کے ایک فرضی افسرکو نوکریوں کا جھانسہ دینے اورلڑکیوں کو بلیک کرکے پیسہ وصولنے کی پاداش میں لازی بل اننت ناگ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: جعلی افسر بن کر لڑکیوں کو پھنسانے اور نوکری کا جھانسہ دینے کے الزام میں اننت ناگ کا شخص گرفتار
جموں وکشمیر: جعلی افسر بن کر لڑکیوں کو پھنسانے اور نوکری کا جھانسہ دینے کے الزام میں اننت ناگ کا شخص گرفتار

اننت ناگ: جموں وکشمیر کی سائبر پولیس نے آئی سی ڈی ایس کے ایک فرضی افسر کو نوکریوں کا جھانسہ دینے اور لڑکیوں کو بلیک کرکے پیسہ وصولنے کی پاداش میں لازی بل اننت ناگ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لازی بل اننت ناگ کا محمد حسین میر عرف بٹہ مورے انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم سے منسلک ایک افسر کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرتا تھا، جس کے بعد کئی خواتین اور مفلس افراد اس کے جھانسے میں آگئے اور ان سے مذکورہ شخص نے مبینہ طور پر لاکھوں روپئے بطور رشوت حاصل کئے۔


پولیس کے مطابق، ملزم کو ایک شکایت کی بنا پر گرفتارکیا گیا۔ شکایت شمالی کشمیر کے بارہمولہ کی ایک خاتون نے درج کرائی، جس میں خاتون نے الزام لگایا کہ ایک نامعلوم فیس بک صارف نے اس کو فریب میں لاکر اسے نوکری کا جھانسہ دیا۔ خاتون نے شکایت میں درج کیا کہ مذکورہ فیس بک صارف آئی سی ڈی ایس کا فرضی پروجیکٹ افسر کے طور پر اپنے آپ کو فیس بک پر پیش کرتا ہے اور نوکری کا جھانسہ دے کر روپیوں کا تقاضہ کرتا ہے۔ خاتون کی تحریری شکایت کے بعد سائبر پولیس اسٹیشن میں باضابطہ طور پر ایک ایف آئی آر درج ہوئی اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی۔


دوران تحقیقات یہ بات سامنے آئی کہ نامعلوم فیس بک یوزر نے 15 فرضی بک اکاؤنٹس مختلف افسران اور خواتین کے نام سے بنائے ہیں اور غیر قانونی طریقے سے کئی سم کارڈس بھی حاصل کئے ہیں، جن کے ذریعے وہ مختلف طریقوں سے لڑکیوں کے ساتھ رابطہ بناتا تھا۔ جبکہ بعض اوقات وہ ضرورتمند اور مستحق لڑکیوں و خواتین سے فحش اور قابل اعتراض تصاویر شئر کرنے کو بھی کہتا تھا۔ جس کے بعد وہ ان خواتین کو بلیک میل کرتا اور آسانی سے روپیہ وصولتا تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ شخص متاثرہ خواتین کو ایک دوسرے کے اکاؤنٹس میں روپیہ جمع کرنے کو کہتا تھا اور بعد میں اسے منصوبہ بند طریقے سے وصولتا تھا۔


پولیس کے مطابق ملزم فیس بک پر ٹیلی ویژن اور بیوروکریسی سے وابستہ ہائی پروفائل شخصیات اور افسران کی پروفائل تصاویر رکھتا تھا، جس سے آسانی سے لوگوں کو جھانسہ دیا جاسکتا تھا۔ پولیس کے مطابق باریک بینی کے بعد نامعلوم ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعہ ملزم کا سراغ جنوبی کشمیر کے لازی بل اننت ناگ سے لگایا گیا۔ جہاں سے ملزم کی شناخت محمد حسین میر جو کہ پیشے سے دوکاندار ہے، کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق میر نے اب تک 100 سے زائد لڑکیوں کو جھانسہ دیکر اور بلیک میل کرکے ان سے لاکھوں روپئے وصول کئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے کرائم پٹرول سیریل سے متاثر ہو کر اس طرح کے جرائم کئے اور اس طرح کا منصوبہ بند طریقہ اپنا کر بلیک میلنگ کا پیشہ اپنایا۔ سائبر پولیس نے لوگوں کو خاص کر لڑکیوں کو خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات سے سبق حاصل کریں اور کسی نامعلوم شخص کے ساتھ اپنی دیٹیلز خاص کر تصاویر شیئر نا کریں اور اس طرح کی کسی بھی شکایت کے تناظر میں پولیس کو مطلع کریں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 16, 2020 11:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading