اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے چار دوستوں کا بڑا کارنامہ، دنیا کا سب سے سستا ایگ انکیوبیٹر کیا ایجاد

    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے چار دوستوں کا بڑا کارنامہ، دنیا کا سستا ایگ انکیوبیٹر کیا ایجاد

    جموں و کشمیر: اننت ناگ کے چار دوستوں کا بڑا کارنامہ، دنیا کا سستا ایگ انکیوبیٹر کیا ایجاد

    Jammu and Kashmir : گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول مرہامہ اننت ناگ میں گیارہویں جماعت میں زیر تعلیم ان چار دوستوں نے کم عمری میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا، جو عام لوگوں کی سوچ سے باہر ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Jammu and Kashmir | Anantnag
    • Share this:
    جموں و کشمیر: کہتے ہیں کہ انسان کی عقل کو قدرت نے ہر شئے پر سبقت عطا کی ہے۔ اسی عقل کا استعمال کر کے مرہامہ اننت ناگ کے چار دوستوں نے ایگ انکیوبیٹر تیار کیا ہے۔ ان دوستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے سستا انکیوبیٹر ہوگا اور چار سو کے قریب انڈے اس میں سما سکتے ہیں۔ گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول مرہامہ اننت ناگ میں گیارہویں جماعت میں زیر تعلیم ان چار دوستوں نے کم عمری میں ایک ایسا کارنامہ انجام دیا، جو عام  لوگوں کی سوچ سے باہر ہے۔ گوہر، ہادی، باسط اور کفایت نے بچپن سے ہی کچھ الگ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ پھر آٹھویں جماعت میں گوہر نے کافی تحقیق کر کے انڈوں میں سے چوزے نکالنے کی مشین یعنی ایگ انکیوبیٹر تیار کرنے کی سوچ لی۔ لگاتار تین سال تک کام کرنے کے بعد آخر کار اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گوہر کا یہ خواب پورا ہوگیا۔

    گوہر تانترے کا کہنا ہے کہ وہ آٹھویں جماعت میں ایک مقامی اسکول میں زیر تعلیم تھے ، اس دوران انہوں نے ایگ انکیوبیٹر بنا کر انڈوں سے چوزے نکالنے کی مشین کو بنانے کی ٹھان لی اور پہلی کوشش میں وہ ناکام رہے کیونکہ ان کے پاس مشین کو مکمل طور پر تیار کرنے کے لئے درکار وسائل کی کمی تھی۔ بعد میں انہوں نے دسویں جماعت پاس کر کے گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول مرہامہ میں داخلہ لیا، جہاں پر اٹل ٹنکرنگ لیب میں انہوں نے اپنے دیگر تین دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی تحقیق کا خاکہ اپنے استاد کے سامنے پیش کیا۔ جس کے بعد اسکول انتظامیہ کی جانب سے ان چاروں طالب علموں کو تعاون فراہم کیا گیا اور وہ اپنی ایجاد میں کامیاب ہو گئے۔

    ہادی ریاض نامی اننویٹر کا کہنا ہے کہ وہ اس ایگ انکیوبیٹر کو ایک نئی سمت دیں گے اور مستقبل میں اپنے اس پروڈکٹ کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش کریں گے۔ ہادی کا کہنا ہے کہ یہ ایگ انکیوبیٹر دنیا کا سستا ترین انکیوبیٹر ہوگا اور اس کی قیمت محض دو سے تین ہزار روپے کے بیچ میں ہوگی۔ جبکہ اسی طرح کا انکیوبیٹر مارکیٹ میں 40 سے 60 ہزار کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ہادی کا کہنا ہے کہ کم قیمت کی وجہ سے یہ پولٹری سیکٹر میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے اور اسے روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم ہو سکتے ہیں۔

    کم وسائل اور معاشی کمیوں کی وجہ سے اگرچہ ان دوستوں کا یہ پروجیکٹ وقت پر مکمل نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن ہائر سکینڈری اسکول مرہامہ میں داخلہ پانے کے بعد انہیں ہر طرح کا تعاون فراہم کیا گیا، جس کے بعد اسکول میں واقع لیباریٹری میں ان دوستوں نے تحقیق کے منازل طے کئے اور کامیابی حاصل کی۔ ان کی اس کامیابی پر سرکاری اسکول میں تعلیمی میعار کی بدلتی تصویر بھی نمایاں ہو رہی ہے۔

    اسکول کے لیکچرر ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا ہے کہ ان چاروں دوستوں نے پورے اسکول کا نام روشن کیا ہے اور اساتذہ کی یہی کوشش ہے کہ ان ہونہار طالب علموں کی صلاحیتوں کو ابھارا جائے اور انہیں مناسب پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔ ڈاکٹر رفیق نے اسکول کے پرنسپل عبدالرشید ڈار کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں اٹل ٹنکرنگ لیب قائم کرنے کا یہی مقصد ہے کہ طلبا و طالبات میں تحقیق کے مادے کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    آرٹس شعبے میں زیرتعلیم ان چار دوستوں نے سائنس اور تکنیک سے کامیابی کا جھنڈا گھاڑ  دیا اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کے سستے انکیوبیٹر میں سے ایک ہوگا، جو جموں و کشمیر کے پولٹری شعبے میں ایک انقلاب لا سکتا ہے۔ جبکہ روزگار فراہم کرنے میں بھی یہ انکیوبیٹر ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ متعلقین کی جانب سے انہیں کلیدی تعاون فراہم ہو۔

    یہ بھی پڑھئے: گرودوارہ صاحب مٹن: کشمیر کا وہ تاریخی گرودوارہ جہاں پر گرونانک دیو جی نے کافی دن گزارے


    یہ بھی پڑھئے: جے اینڈ کے پولیس بھرتی گھوٹالہ، سابق اے ایس آئی اور تین افراد گرفتار، سی بی آئی کی کاروائی



    ان چاروں دوستوں نے اس بات کو پھر ایک بار ثابت کر دیا کہ انسان کا حوصلہ اور عقل اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جبکہ یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایسے میں انہیں ضرورت صحیح تربیت کی اور مناسب کیریئر کونسلنگ کی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: