உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir میں کووڈوبا سے متاثرہ خاندانوں کو سکھشم اسکیم کے تحت مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    جموں کشمیر میں کووڈ وبا سے متاثرہ خاندانوں کو سکھشم اسکیم کے تحت مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    جموں کشمیر میں کووڈ وبا سے متاثرہ خاندانوں کو سکھشم اسکیم کے تحت مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بیماری کی وجہ سے گزشتہ جمعہ تک جموں وکشمیر میں چار ہزار چار سو انیاسی (4479) افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فوت ہوئے افراد میں کشمیر وادی میں 2294 اور جموں خطے میں دو ہزار ایک سو پچاسی 2185 افراد شامل ہیں۔

    • Share this:
    دُنیا بھر میں پھیلے کووڈ-19 نے لاکھوں لوگوں کی جانیں لیں اور کئی لوگ ابھی بھی اس بیماری سے مبتلا ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں بھی اس بیماری نے ہنگامہ مچادیا اور انسانی جانوں کا کافی نقصان ہوا۔ جموں وکشمیر بھی اس بیماری کی زد میں آگیا اور کئی لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یوٹی انتظامیہ اس بیماری کی وجہ سے یتیم ہوئے بچوں اور بیواوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں آگے زندگی چلانے میں کافی مدد کر رہی ہے۔

    جموں وکشمیر میں اتنے افراد نے گنوائی جان

    دسمبر 2019 میں پھیلی کورونا وائرس کی بیماری سے جموں و کشمیر بھی بچ نہیں پایا اور یہاں بھی اس بیماری نے قہر برپا کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس بیماری کی  وجہ سے گزشتہ جمعہ تک جموں وکشمیر میں چار ہزار چار سو ۷۹ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فوت ہوئے افراد میں کشمیر وادی میں 2294 اور جموں خطے میں 2185 افراد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ اموات ضلع جموں میں ہوئی ہیں، جہاں 1157 لوگ فوت ہوئے۔ کورونا سے فوت ہوئے افراد میں بیشتر ایسے لوگ تھے، جو اکیلے اپنے کنبے کے کمانے والے تھے اور اس وجہ سے ان کے بچے اور بیویاں بے سہارا ہوئیں۔ ایسے کنبوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کے لئے یو ٹی سرکار نے سنجیدہ اقدامات شروع کئے اور سکھشم اسکیم کو لانچ کرکے ان بے سہارا لوگوں کی مدد کی شروعات کی۔ سرکار نے فوت ہوئے افراد کے اہل خانہ کو حال ہی میں فی کس 50 ہزار روپئے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ستیش کمار شرما اے ڈی سی جموں نے بتایا جموں کشمیر انتظامیہ کووڈ فیملیز کے لئے سکشم کے ذریعے مالی امداد پہنچا رہی ہے۔ اسکیم سکشم کے تحت، زندہ بچ جانے والی شریک حیات، اور متاثرہ خاندانوں کے ایک سب سے بڑے زندہ بچ جانے والے رکن کو روپے کی خصوصی ماہانہ پنشن ملے گی، 1000 براہ راست بینک ٹرانسفر (DBT) کے ذریعے، بشرطیکہ وہ دوسری اسکیموں کے تحت کوئی پنشن حاصل نہ کر رہے ہوں۔

    بچوں کو خصوصی اسکالر شپ فراہم کرے گی یہ اسکیم

    یہ اسکیم ان بچوں کو خصوصی اسکالرشپ بھی فراہم کرے گی، جنہوں نے اپنے کمانے والے والدین (والدین)/ بہن بھائیوں/ سرپرستوں (سرپرستوں) کو کووڈ-19 سے کھو دیا ہے۔ خصوصی اسکالرشپ ہر سال روپے کی شرح سے ادا کی جائے گی۔  20,000 اور روپئے 40,000 DBT کے ذریعے 12ویں جماعت تک پڑھنے والے بچوں کو بالترتیب اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے دی جائے گی۔ انتظامی کونسل نے کووڈ متاثرین کے خاندانوں کو سنبھالنے اور خود روزگار کے لیے مالی امداد سمیت مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت فوائد کی توسیع میں سہولت فراہم کرنے کے لئے محکمہ سماجی بہبود میں ایک خصوصی سیل کے قیام کی بھی منظوری دی۔

    ایک طرف سسرکار کووڈ سے ہوئے بے سہارہ لوگوں کی مدد کے لئے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ وہیں دوسری اور مختلف رضا کار تنظیمیں بھی ایسے لوگوں کی حالت زندگی کو پٹری پر لانے کے لئے کوششوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ ریڈ کراس سوسائٹی ایسی تنظیموں میں شامل ہے، جو ان لوگوں کو مدد کرنے کے لئے آگے آئی ہے۔ جموں ریڈ کراس کے آنرری سکریٹری ونو د مہلوترا کے مطابق گزشتہ دو بر س کے دوران سوسائیٹی نے محکمہ سوشل ویلفئیر اور ضلع انتظامیہ کے تعاون سے ایسے کنبوں کی نشاندہی کرکے انہیں مالی اور دیگر امداد فراہم کی۔

    ونود ملہوترا آنرری سیکریٹری جموں ریڈ کراس نے بتایا کوویڈ مہاماری نے ہر ایک کنبے کو پریشان حال کیا ہے۔ بہت ساری ایسی فیملیز ہیں جموں کشمیر میں جن کی نشاندہی کر کے اُن کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ ہم زیادہ نہیں کرسکتے لیکن ہماری سوسائٹی نے کوویڈ مریضوں کے لئے آکسیجن سلنڈرز، آکسی میٹرز ضرورت مندوں تک پہنچائے اور جن خاندانوں کے چراغ اس بے رحم بیماری نے بجھا دیئے اُن تک مالی مدد بھی پہنچائی۔ عام لوگ جہاں سرکار اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے کووڈ سے بے سہارا ہوئے کنبوں کی امداد کے لئے آگے آنے کی سراہنا کرتے ہیں۔ وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام لوگوں کو بھی اس عظیم کام کے لئے اپنا رول نبھانا ہوگا تاکہ کووڈ سے فوت ہوئے افراد کے اہل خانہ مُصیبتوں میں نہ اُلجھیں۔

    سماجی کارکن سُہیل کاظمی  نے بتایا اس بیماری نے جہاں ہمیں ایک دوسرے سے دور رہنے کے لئے مجبور کیا۔ وہیں دوسری طرف ہمارے دلوں میں ضرورت مندوں کے لئے کچھ کرنے کا جزبہ بھی بنایا۔ ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کررہے ہیں کہ ہر ضرورت مند تک پہنچ پائیں، لیکن ہمارے علاوہ جو بھی شخص ان ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہے، اُن کو کسی تنظیم کے آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود سے اپنے آس پاس رہنے والے ضرورت مندوں تک پہنچنا چاہئے، اس سے ہر ایک ضرورت مند تک مدد پہنچائی جاسکتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: آئی ایس آئی کی بڑی سازش، سیکورٹی اہلکاروں سے انکاونٹر میں عام کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا حکم




    سرکار کی طرف سے کووڈ سے فوت ہوئے افراد کے اہل خانہ کو فی کس پچاس ہزار روپئے کی امداد دینے کے فیصلے کو عمل میں لاتے ہوئے سنیچروار سے متعلقہ محکمہ نے اس کی شروعات کی ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ کی ٹیمیں بذات خود دورہ کرکے ایسے کنبوں کی نشاندہی کریں گی اور جو مالی امداد ان کنبوں کو دی جائے گی، وہ سیدھے ان کے بینک کھاتوں میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔ امید ہے کہ سرکار کے ایسے اقدامات سے ایسے کنبوں کی حالت زندگی بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ بے سہارا بچوں کا مستقبل بھی سنور جائے گا۔



    قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

    Published by:Nisar Ahmad
    First published: