உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: ایک عام شہری پر چلائی گئی گولی، زخمی حالت میں اسپتال میں داخل

    جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے میں دیر شام ایک اور شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ شوپیاں کے رکھ چدرن کیگام علاقے میں دہشت گردوں نے ایک مقامی شخص کو گولی مار دی۔ فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔

    جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے میں دیر شام ایک اور شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ شوپیاں کے رکھ چدرن کیگام علاقے میں دہشت گردوں نے ایک مقامی شخص کو گولی مار دی۔ فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔

    جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے میں دیر شام ایک اور شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ شوپیاں کے رکھ چدرن کیگام علاقے میں دہشت گردوں نے ایک مقامی شخص کو گولی مار دی۔ فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔

    • Share this:
    سری نگر: جنوبی کشمیر کے شوپیاں علاقے میں دیر شام ایک اور شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ شوپیاں کے رکھ چدرن کیگام علاقے میں دہشت گردوں نے ایک مقامی شخص کو گولی مار دی۔ فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔ اسے فوری طور پلوامہ ضلع اسپتال منتقل کیا گیا اور بتایا گیا کہ گولی اس کے ٹانگ میں ماری گئی ہے اور آخری خبریں آنے تک اس کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

    پولیس نے کیس درج کرلیا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق زخمی شخص انڈسٹریل اسٹیٹ میں مزدوری کرتا ہئے۔ واقع کے فوری بعد پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

    فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔ اسے فوری طور پلوامہ ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔

    فاروق احمد شىخ ولد غلام نبی شخ نامی شخص کو گھر کے نزدیک گولی مار دی گئی۔ اسے فوری طور پلوامہ ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔کشمیر میں ٹارگٹ کلینگ کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اقلیتی طبقے کے ساتھ ساتھ اکثریتی طبقے کے لوگ بھی نشانہ بنائے جارہے ہیں۔ کل دن میں ہی ایک خاتون ٹیچر کو جنوبی کشمیر کے کولگام علاقے میں گولی مار دی گئی اور بعد میں ان کی موت ہوئی۔ ان معاملات کو لے کر وادی بھر میں دہشت کا ماحول ہے۔

    پی ایم پکیج کے تحت کشمیر میں تعینات ملازمین مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ آج شام یوٹی انتظامیہ نے ان ملازمین کو محفوظ مقامات پرتعینات کرنے کےلئے فوری اقدامات کرنےکا اعلان کیا، لیکن یہ ملازمین کشمیر سے منتقل کرنے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب راہل بٹ نامی ملازم کو دفتر میں گُھس کرگولی ماری جاسکتی ہے تو وہ کہاں محفوظ ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: