ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ہندوستان کے خلاف عمران خان کی سازش، جموں وکشمیر میں پھر ملی خفیہ سرنگ

Jammu-Kashmir: ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں پر گولی باری کرکے ان کی توجہ بھٹکانا پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کا پرانا طریقہ ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال دہشت گردوں (Terrorists) کو ہندوستان میں دراندازی کرانے کے لئے کیا جاتا ہے۔

  • Share this:
ہندوستان کے خلاف عمران خان کی سازش، جموں وکشمیر میں پھر ملی خفیہ سرنگ
ہندوستان کے خلاف عمران خان کی سازش، جموں وکشمیر میں پھر ملی خفیہ سرنگ

نئی دہلی: پاکستان (Pakistan) مسلسل جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) کے ذریعہ ہندوستان میں بدامنی کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ اس بات کا ثبوت بدھ کو کٹھوعہ علاقے میں ملی سرنگ ہے، جسے بڑے ہی ماہر ڈھنگ سے تیار کیا گیا تھا۔ سیکورٹی اہلکاروں کو ملی اس سرنگ کی تعمیر پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرانے کے لئے کیا تھا۔ خاص بات ہے کہ گزشتہ نومبر میں بھی سیکورٹی اہلکاروں نے ایسی ہی ایک سرنگ کا پتہ لگایا تھا۔


سرحدی سیکورٹی اہلکاروں نے قومی سطح پر یہ اطلاع دی ہے کہ زمین کے اندر ایک سرنگ کا پتہ لگا ہے۔ اس کی تعمیر پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کو سرحد پار پہنچانے کے لئے کیا ہے۔ سرحدی سیکورٹی اہلکاروں کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ سرنگ ہندوستانی مداح لائن سے تقریباً 65 فٹ دور ملی ہے۔ 3 فٹ چوڑی اس سرنگ کی تعمیر 30-25 فٹ کی گہرائی پر کیا گیا ہے۔


افسر نے بتایا ’آخری بار ملی سرنگ کو دھیان میں رکھتے ہوئے، ہم نے پتہ لگایا ہے کہ پاکستانی فوج نے دراندازی کرکے نیا راستہ بنانے کے لئے کراس دہشت گرد تیار کرنے شروع کردیئے ہیں۔ ان کا پتہ لگانے کے لئے الگ سے ٹیم تیار کی گئی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ پاکستان ایک ططرف سرنگ اور دوسری طرف خالصتان حامیوں کے ذریعہ ہندوستان کا ماحول بگاڑنے کی سازش رچ رہا ہے۔ خبر ہے کہ خالصتان حامیوں کے ذریعہ آئی ایس آئی کسان آندولن میں تشدد کا تڑکا لگانے کی فراق میں ہے۔ وہیں، دہلی میں افسران نے ان سرنگوں کو علاقے میں پاکستان کی طرف سے کئے جا رہے سیز فائر خلاف ورزی سے جوڑ کر دیکھا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں پر گولہ باری کرے ان کی توجہ بھٹکانا پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کا پرانا طریقہ ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال دہشت گردوں کو ہندوستان میں دراندازی کرانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ افسر نے اطلاع دی کہ اب ان کا استعمال اس جگہ سے سیکورٹی اہلکاروں کی توجہ ہٹانے کے لئے بھی کیا جاتا ہے، جہاں یہ سرنگ تیار کر رہے ہیں‘۔




حملے بڑھے، لیکن ہندوستان کو کامیابی بھی ملی

جموں وکشمیر پولیس کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2020 میں سیز فائر کے 930 معاملے سامنے آئے تھے۔ اگر گزشتہ سال سے موازنہ کیا جائے، تو ایسے معاملوں میں 54 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں داخل کئے گئے 174 دہشت گردوں میں سے صرف 52 ہی اس وقت سرگرم ہیں۔ افسر بتاتے ہیں ’ان میں سے تقریباً 50 نے خود سپردگی کردی ہے یا گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ وہیں، 2020 دیگر 76 سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں مارے گئے ہیں’۔ دہلی کے سیکورٹی جانکار کہتے ہیں کہ سرنگوں کے ذریعہ دہشت گردوں کی ہندوستان میں دراندازی کرانا یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں حالات کس حد تک خراب رکھنا چاہتا ہے۔ یہ معاملہ سیاست سے بھی کافی حد تک جڑا ہے۔

سندیپ بول کی رپورٹ
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 13, 2021 10:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading