ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر جموں وکشمیر میں منشیات مخالف ریلیاں

Jammu and Kashmir News : وادی کشمیر میں منشیات کی طرف نوجوانوں کا رجحان زیادہ نظر آرہاہے ۔ گزشتہ ہفتوں سے لگاتار کپواڑہ اور دوسرے اضلاع میں سرحدوں اور دوسرے مقامات پر کروڑوں روپے کے ہیروئن ضبط کی جارہی ہیں ۔

  • Share this:
انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر جموں وکشمیر میں منشیات مخالف ریلیاں
انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر جموں وکشمیر میں منشیات مخالف ریلیاں

بڈگام : دنیا بھر میں انسداد منشیات کا عالمی دن 26 جون کو منایا جارتا ہے ۔ اس دن کے حوالے سے دنیا بھر میں میں سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مذاکرے اور تقاریب منعقد کئے جاتے ہیں ۔ اسی دن کی مناسبت سے وسطی ضلع بڈگام کے ماگام میں جموں وکشمیر پولیس نے پولیس اسٹیشن ماگام سے ریلی نکالی ۔ ریلی میں پولیس کے جوانوں، اسکولی طلبہ ، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات کے علاوہ ڈی ایس پی ماگام، ایس ایچ او ماگام اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔ ریلی کا مقصد منشیات کے استعمال کی روک تھام ، غیر قانونی تجارت کا خاتمہ اور اس کی تباہ کاری کے سلسلہ میں عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنا تھا ۔ ریلی کے دوران پولیس نے بغیر ماسک کے راہگیروں میں ماسک بھی تقسیم کئے۔


دنیا بھر کے معاشروں میں برھتی ہوئے منشیات نوشی پر7 دسمبر1987 کو اقوام متحدہ نے اس دن کو ہر سال 26 جون کو منانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ طبی و نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی نسل میں نشہ آور اشیا کے استعمال کا رجحان درحقیقت دولت کی انتہائی فراوانی یا انتہائی غربت ، دوستوں کی بری صحبت ، جنس مخالف کی بے وفائی ، اپنے مقاصد میں ناکامی ، حالات کی بے چینی اور مایوسی، والدین کی بچوں کی طرف سے بے اعتناہی، معاشرتی عدم مساوات و نا انصافی، والدین کے گھریلو تنازعات کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں ۔


ماہرین کاکہنا ہے کہ اس دن کے منانے کا مقصد یہی ہے کہ ایسے اسباب کو دور کیا جائے یا انہیں کم کیا جائے ۔ تاکہ نئی نسل منشیات کی لعنت سے بچ سکے ۔ ادھر وادی کشمیر میں منشیات کی طرف نوجوانوں کا رجحان زیادہ نظر آرہاہے ۔ گزشتہ ہفتوں سے لگاتار کپواڑہ اور دوسرے اضلاع میں سرحدوں اور دوسرے مقامات پر کروڑوں روپے کے ہیروئن ضبط کی جارہی ہیں ۔


اس کے علاوہ جموں وکشمیر پولیس تقریباً ہر روز کسی نہ کسی جگہ پر منشیات اسمگلروں کو گرفتار کررہی ہے ۔ پولیس بھی اس ناسور کے خاتمے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ ماہرین بھی چاہتے ہیں کہ وادی کو اس خطرناک لت سے پاک کیا جائے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 26, 2021 11:15 PM IST