ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

اپنی پارٹی کی مرکزی حکومت کو دھمکی ، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ کیا تو سڑکوں پر آئیں گے

سید الطاف بخاری نے یوٹی انتظامیہ کو نکمی سرکار سے تعبیر کیا ۔ انھوں نے کہا کہ جو حکومت چار مہینوں میں گوشت کی قیمتیں طے نہیں کرپائی ، ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے؟ ۔

  • Share this:
اپنی پارٹی کی مرکزی حکومت کو دھمکی ، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ کیا تو سڑکوں پر آئیں گے
اپنی پارٹی کی مرکزی حکومت کو دھمکی ، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال نہ کیا تو سڑکوں پر آئیں گے

دفعہ 370 کالعدم کئے جانے کے بعد وجود میں آئی جموں و کشمیر اپنی پارٹی نے پہلا یوم تاسیس منایا ۔ اس موقع پر پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے اپنی پارٹی کی کامیابیاں گنوانے کے ساتھ ساتھ حریف نیشنل کانفرنس کے ساتھ ساتھ بی جے پی پر بھی جم کر نشانہ سادھا۔ حریف پارٹی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی طرف سے بی جے پی کی بی ٹیم کہلانے والی اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے بی جے پی پر بھی نشانہ سادھا ۔ الطاف بخاری نے دفعہ 370 اور 35 اے کو کالعدم کئے جانے کو ظالمانہ کاروائی قرار دیا۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی بھی پارٹی یہ کہتی ہے کہ خصوصی درجہ بحال کروائے گی تو وہ اُن کے مطابق پریوں کی کہانی کے مترادف ہوگا ، کیونکہ یہ کسی بھی مقامی پارٹی کے بس میں نہیں ۔ ان کے مطابق یہ یا تو پارلیمنٹ کرسکتی ہے یا پھر سپریم کورٹ ۔


جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی پارٹی عدالت میں اس فیصلہ کو چلینج کرے گی تو انھوں نے کہا کہ یہ اب ممکن نہیں ۔ الطاف بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی عوام کے مفادات کے لئے کام کررہی ہے۔ انھوں نے دعوٰی  کیا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے نوکریاں محفوظ  کروانے اور فورجی بحال کروانے سمیت کئی اہم کام انھوں نے مرکزی حکومت سے کروائے ہیں ۔


اپنی پارٹی کے صدر نے حد بندی کمیشن کو الیکشن روکنے کا بہانہ قراردیا۔ اس موقع پر انھوں نے نیشنل کانفرنس پر بھی نشانہ سادھا ۔ انھوں  نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے حد بندی کمیشن کی میٹنگ کا بایئکاٹ کرکے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ بخاری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمان سرکاری بنگلوں میں رہ کر مزے لوٹ رہے ہیں ، لیکن عوام کے مفادات کی بات نہیں کرتے۔ انھوں نے الزام لگایا نیشنل کانفرنس حد بندی کمیشن کی میٹنگ سے دور رہ کر ایک سازش کے تحت بی جے پی کے لئے میدان کھلا چھوڑ رہی ہے ۔


سید الطاف بخاری نے اس موقع پر یوٹی انتظامیہ کو نکمی سرکار سے تعبیر کیا ۔ انھوں نے کہا کہ جو حکومت چار مہینوں میں گوشت کی قیمتیں طے نہیں کرپائی ، ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے؟ ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں اس کو ایک سازش سے تعبیر کیا۔ ان کے مطابق یہ کشمیریوں کو برہمنوں کی طرح سبزی خور بنانے کا منصوبہ ہوسکتا ہے۔ اپنی پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کروانے کا مطالبہ پورا کروا کے ہی دم لے گی۔

بتادیں کہ اپنی پارٹی کا قیام پی ڈی پی سے الگ ہوئے سابق وزیر الطاف بخاری اور دیگر سینیر لیڈروں نے پچھلے سال کیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 09, 2021 10:21 AM IST