ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: فوج نےکیا ’مشن پہل’ کا آغاز، منفی پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو دور رکھنے کےلئے فوج نے اٹھایا قدم

  • Share this:
جموں وکشمیر: فوج نےکیا ’مشن پہل’ کا آغاز، منفی پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو دور رکھنے کےلئے فوج نے اٹھایا قدم
جنوبی کشمیر میں فوج نے کیا ’مشن پہل’ کا آغاز

جموں کشمیر: منفی پروپیگنڈوں اور بے بنیاد افواہوں سے کشمیری نوجوانوں کو دور رکھنے کےلئے فوج نے جنوبی کشمیر میں ایک خاص پہل کی ہے۔ "مشن پہل" کے نام سے منسوب اس خاص پہل کے ذریعے فوج کی 19 راشٹریہ رائفلز نے گورنمنٹ پالی ٹیکنک کالج لارکی پورہ میں ایک خاص سیشن کا اہتمام کیا۔ اس دوران 19 راشٹریہ رایفلز کے کمانڈنگ افسر، کرنل دھرمیندرا یادو نے کشمیری نوجوانوں کے سخت سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی۔


منفی پروپیگنڈوں اور بے بنیاد افواہوں سے کشمیری نوجوانوں کو دور رکھنے کےلئے فوج نے جنوبی کشمیر میں ایک خاص پہل کی ہے۔
منفی پروپیگنڈوں اور بے بنیاد افواہوں سے کشمیری نوجوانوں کو دور رکھنے کےلئے فوج نے جنوبی کشمیر میں ایک خاص پہل کی ہے۔


اس موقع پر نوجوان طالب علموں نے ان کی ذہنوں میں گھرکرگئے کئی مسائل زیر بحث لائے اور فوجی افسران سے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پنپ رہے کئی سوالات پوچھے، جس کے بعد متعلقین نے ہر ایک سوال کا جواب دے کر  نوجوانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ کرنل دھرمیندر یادو کے مطابق فوج کا مشن پہل کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں میں سوشل میڈیا یا دوسرے منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے چھائے خدشات کو دور کرنےکی ایک کوشش ہے جبکہ اس پروگرام کے ذریعے فوج نے نوجوانوں کے بیچ جاکر انہیں قریب سے جاننے اور محسوس کرنے کی کوشش کی۔




اسی طرح سے کشمیری نوجوانوں نے بھی دل سے فوجی افسران سے بات کی اور کھلے دل سے ہر اس بات کا انکشاف کیا جو مختلف وجوہات کی بنا پر ان کے ذہنوں میں گھرکرگئے تھے۔ کرنل دھرمیندرا یادو نے کہا کہ مشن پہل کا مقصد نوجوانوں اور فوج کے مابین دوریوں کو کم کرنا ہے، کیونکہ کمیونی کیشن گیپ کی وجہ سے اب بھی کئی مسائل حل طلب ہیں اور اس مشن کے ذریعہ ان مسائل کا ازالہ ممکن بنانے کی فوج کوشش کر رہی ہے۔



دوسری طرف طالب علموں نے فوج کی اس خاص پہل کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا ہے۔ نوجوانوں کے مطابق کشمیرکی موجودہ صورتحال میں جہاں انکاونٹرس اور دیگر مسائل کا انہیں سامنا ہے وہیں فوج نے ان سبھی خدشات و مسائل پر اپنی صفائی پیش کی جوکہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ نوجوانوں کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح کے پروگراموں کو عملی طور پر زمینی سطح پر بھی عملایا جائے تاکہ فوج اور عوام کے مابین رشتوں کو مزید تقویت حاصل ہو سکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 20, 2021 01:43 AM IST