உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری سیب کےکسانوں کےلیے راحت کی خبر، موڈیفائیڈہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن اسکیم کاآغاز، جانیے تفصیلات

    یہ اسکیم ان کسانوں کے لیے مدد ثابت ہوگی، جن کے پاس زمینیں اور سرمایہ کم ہیں۔

    یہ اسکیم ان کسانوں کے لیے مدد ثابت ہوگی، جن کے پاس زمینیں اور سرمایہ کم ہیں۔

    محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بھٹ Ajaz Ahmad Bhat نے نیوز 18 کو بتایا کہ ’’موڈیفائیڈ ہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن نامی اسکیم پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے‘‘۔

    • Share this:
      کشمیری سیب (Kashmiri apple) کے کاشتکاروں نے جب سے نیدرلینڈز (Netherlands) اور اٹلی (Italy) سے درآمد شدہ بیجوں کی اعلی اقسام والے پودے لگانے شروع کیے ہیں، تب سے ان کسانوں کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنوبی کشمیر کے کئی مقامات بشمول شوپیاں، پلوامہ اور کولگام کے سیکڑوں کسانوں نے روایتی باغات کو ختم کر کے نئے باغات لگائے ہیں۔ اس دوران وہ درآمد شدہ سیب کی قسموں کی کاشت کاری کررہے ہیں، تاکہ پیداوار اور پھل کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے، لیکن مہنگائی اور طویل مدت کے بعد پیداوار حاصل ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔

      ان مسائل کے حل اور نئے رجحان پر نظر رکھتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نے اب ایک پانچ سالہ زبردست اسکیم شروع کی ہے جس سے سیب کے کسانوں کی آمدنی  میں دوگنا بلکہ تین گنا تک اضافہ کی توقع ہے۔ یہ اسکیم ان کسانوں کے لیے مددگار ثابت ہوگی، جن کے پاس زمینیں اور سرمایہ کم ہے۔

      حکومت ایڈمنسٹریشن سیکریٹریز کی طرف سے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے ہفتہ وار رپورٹ کرے گی طلب
      اس اسکیم کو حال ہی میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور انتظامیہ نے نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (NAFED) کے اشتراک سے شروع کیا ہے۔


      باغات میں معیار، پیداوار کو بہتر بنانے پر زور:

      موڈیفائیڈ ہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن Modified High-Density Plantation نامی اسکیم کو حال ہی میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا Manoj Sinha اور انتظامیہ نے نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا لمیٹڈ (NAFED) کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کاشتکار اپنے باغات میں معیار، پیداوار کو بہتر بنانے اور بیماریوں سے پاک پھل کی جلد افزائش کے قابل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کم رقم خرچ کر کے درآمدی جڑوں کا ذخیرہ سبسڈی کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔


      مذکورہ اسکیم کے تحت اگلے پانچ سال میں جی اینڈ کے محکمہ باغبانی کا 5,500 ہیکٹر اراضی کا احاطہ کیا جائے گا۔ جس کے تحت 2021 میں 500 ہیکٹر اور اگلے چار سال میں 1,000 ہیکٹر ہوگا۔ کاشتکاروں کو سیب کی اعلی اقسام کے پودے high-density plantation لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جس میں سیب کے علاوہ اخروٹ، بادام، چیری، آم، لیچی اور زیتون کے لیے بھی یہی اختراعات ہیں۔

      کسانوں کی آمدنی بڑھے گی:

      محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بھٹ Ajaz Ahmad Bhat نے نیوز 18 کو بتایا کہ ’’موڈیفائیڈ ہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن نامی اسکیم پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے‘‘۔

      ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ اقسام والے پودے لگانے سے ایک مخصوص علاقے میں 10 سے 12 گنا زیادہ پودے لگ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف 250 روایتی اسٹاک کے مقابلے میں ایک ہیکٹر زمین میں 3,333 سیب کے ذخیرے اگائے جا سکتے ہیں۔ جہاں تک پیداوار کا تعلق ہے، کسانوں کی جانب سے نئی اسکیم کو اپنانے کی صورت میں صرف 12 میٹرک ٹن کے مقابلے 60 میٹرک ٹن حاصل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ یہ بہتر معیار، کم کٹائی اور پھل کے جلد آنے کو یقینی بناتا ہے۔


      سستی اور آسان طریقہ کار
      بھٹ نے مزید کہا کہ ’’جبکہ ایک روایتی سیب کا پودا سات سال کے بعد پھل دیتا ہے، نئے اسٹاک دوسرے سال سے ہی پھل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ مزید، ان پودوں کی دیکھ بھال بہت سستی اور آسان ہے‘‘۔

      انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم کسان دوست ہے اور حکومت ان کی حوصلہ افزائی کے لیے فنڈنگ ​​میں سبسڈیز دے رہی ہے۔ اسکیم کے تحت حکومت اور کسان کے درمیان فنڈنگ ​​یا فنانسنگ پیٹرن 50:50 ہے، یعنی حکومت کی طرف سے 50 فیصد سبسڈی ہوگی، 40 فیصد قرض بینک کے ذریعے حاصل کیا جائے گا (جو کہ اختیاری ہے) اور اسکیم حاصل کرتے وقت کسان کو صرف دس فیصد ادائیگی ضروری ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: