ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیرکوریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گااوریہاں اسمبلی انتخابات ہونگے،ترون چگھ کابیان

جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چگھ نے کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گا اور یہاں عنقریب اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے‘۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 11, 2021 10:08 PM IST
  • Share this:
جموں وکشمیرکوریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گااوریہاں اسمبلی انتخابات ہونگے،ترون چگھ کابیان
جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گا اور یہاں اسمبلی انتخابات ہونگے، بی جے پی لیڈر ترون چگھ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگھ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گا اور یہاں عنقریب اسمبلی انتخابات بھی منعقد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر رہی ہے اور یہاں امن قائم ہے۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پنڈت دین دیال اپادھیائے کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ کیا۔ان کا کہنا تھا: ’پنڈت دین دیال اپادھیائے کی سوچ غریب کی زندگی میں تبدیلی لانے کی سوچ کی تھی جس کو نریندر مودی 26 مئی 2014 سے مختلف یوجنائیں متعارف کرکے عملی جامہ پہنا رہے ہیں‘۔


انہوں نے کہا کہ ہم آنجہانی پنڈت کی سوچ کو عملی جامہ پہنا کر بھارت کو غریبی، ذات پات، مذہبی منافرت سے مکت دیش بنانا چاہتے ہیں اور غریبی کے خلاف ہماری لڑائی جاری رہے گی۔جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دینے کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چگھ نے کہا: ’میں سمجھتا ہوں کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ جلد واپس دیا جائے گا اور یہاں عنقریب اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے‘۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی یہاں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کر رہی ہے اور ہم شانتی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کشمیر کی اصلی خوشبو اور پہچان کو بنانا چاہتے ہیں۔



دفعہ 370 کھوکھلا تھا، اس کی تنسیخ سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا: اے ایس دلت

خفیہ ایجنسی 'را' کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دلت نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کی تنسیخ سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ دفعہ بالکل کھوکھلا ہو چکا تھا۔ ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ اس دفعہ کی تنسیخ سے کشمیر کے لوگ مایوس اور ناراض ہوئے ہیں۔موصوف نے کہا کہ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو اب میدان میں آکر سیاست کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہئے اور ہمارے درمیان رشتہ بحال ہوجانا چاہئے۔دلت نے ان باتوں کا اظہار ایک مقامی انگریزی روزنامے کے ساتھ اپنے ایک آن لائن ویڈیو انٹرویو کے دوران کیا ہے۔انہوں نے کہا: 'میں سمجھتا ہوں کہ دفعہ 370 ختم کرنے سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ اب بالکل کھوکھلا ہوا تھا لیکن بی جے پی کا ایجنڈا تھا کہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے کشمیر کے لوگ مایوس ہوئے ہیں اور انہیں لگتا ہے یہ ایک قسم کی غداری ہے۔مسٹر دلت نے کہا کہ مین اسٹریم سے وابستہ لوگ بھی اس سے ناخوش ہیں اور ان کی شکایات ہیں کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔سال2004 میں حریت لیڈروں کی اُس وقت کے نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: 'وقت بدلتا رہتا ہے کبھی بھی موقعے کو ہاتھ سے نہیں دیا جانا چاہئے۔ حریت کو 2000 سے 2004 تک کے چار برسوں کے دوران آگے بڑھنے کے کئی موقعے ملے تھے لیکن وہ وہیں رہ گئے جہاں پھنسے ہوئے تھے'۔موصوف سابق 'را' سربراہ نے کہا: 'حریت کی طرف سے جب بھی کوئی وفد بات چیت کے لئے آتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ پہلے پاکستان کے ساتھ ہم بات کریں گے اور آپ بھی اُن کے ساتھ بات کریں یہ لوگ پاکستان کے ہدایات پر چل رہے ہیں'۔انہوں نے کہا کہ میں نے خود پاکستانی دوستوں سے کہا تھا کہ حریت کو جو آپ روکتے ہو وہ کشمیر کے لئے کسی بھی صورت میں ٹھیک نہیں ہے۔میرواعظ عمر فاروق کو سیاسی میدان میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے مسٹر دلت نے کہا: 'میں خاص طور پر میرواعظ عمر فاروق جو ایک مذہبی رہنما ہیں ہی، کو باہر نکل کر سیاست کرنے کو کہتا ہوں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Feb 11, 2021 06:48 PM IST