உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں رواں سال تقریباً 23 لوگوں کا قتل کیا گیا، مقتول میں سیاسی کارکن اور عام شہری

    جموں وکشمیر میں رواں سال تقریباً 23 لوگوں کا قتل کیا گیا، مقتول میں سیاسی کارکن اور عام شہری

    جموں وکشمیر میں رواں سال تقریباً 23 لوگوں کا قتل کیا گیا، مقتول میں سیاسی کارکن اور عام شہری

    ہندوستان کے سر کا تاج کہے جانے والی یوٹی جموں وکشمیر اپنی خوبصورتی خود بیان کرتا ہے، لیکن جموں کشمیر پر پھیلا دہشت گردی کا سایہ لگاتار یہاں کے پرسکون ماحول کو، یہاں کے بھائی چارے کو کئی سالوں سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

    • Share this:
    جموں: ہندوستان کے سر کا تاج کہے جانے والی یوٹی جموں وکشمیر اپنی خوبصورتی خود بیان کرتا ہے، لیکن جموں کشمیر پر پھیلا دہشت گردی کا سایہ لگاتار یہاں کے پرسکون ماحول کو، یہاں کے بھائی چارے کو کئی سالوں سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ چاہے وہ 90 کی دہائی میں کشمیری پنڈتوں کا گھر سے بے گھر ہونا ہو۔ دہشت گرد مسلسل کشمیر میں بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل کرکے جموں کشمیر کا ماحول تباہ کرنے میں لگے ہیں۔ اگر ہم صرف اس سال کشمیر وادی میں ہونے والے قتل کی بات کریں تو تقریباً 23 کے آس پاس سیاسی کارکنان اور عام شہریوں کا قتل کیا گیا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ضلع سری نگر میں 8 قتل ہوئے، جن میں کلگام سے پانچ، اونتی پورہ پولیس ضلع کے ترال علاقے سے چار، بارہمولہ اور اننت ناگ سے دو دو اور بڈگام اور بانڈی پورہ سے ایک ایک قتل ہوا۔ جنوبی کشمیر میں شوپیاں اور پلوامہ پولیس ضلع جو کہ عسکریت پسندی کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے، اس سال کوئی بھی عام شہری یا سیاسی ہلاکتوں کا شکار نہیں ہوا جبکہ وسطی کشمیر کے گاندربل اور شمالی کشمیر کے کپواڑہ میں بھی اب تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

    27 جنوری کو، صورہ کے رہائشی نادیف حنیف خان، جنہیں گزشتہ سال یکم دسمبر کو ان کی رہائش گاہ پر مسلح افراد نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ 28 فروری کو سری نگر کے ایک مشہور ڈھابہ مالک کے بیٹے آکاش مہرا جو 17 فروری کو عسکریت پسندوں کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، بعد میں دم توڑ گئے۔ 29 مارچ کو ضلع بارہمولہ کے سوپور علاقے میں کونسلروں کی ملاقات کے بعد دو کونسلر ریاض احمد پیر اور شمس الدین پیر ہلاک کر دیئے گئے۔

    ماگام بڈگام کے ایک سابق پولیس افسر نثار احمد کو 11 اپریل کو  ان کے علاقے میں حملہ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ 29 مئی کو جبلی پورہ بجبہاڑہ کے دو شہری سنجید احمد پڑے اور عبدالعظیم پڑے اپنے علاقے میں مارے گئے۔ 02 جون کو بی جے پی سے وابستہ میونسپل کونسلر راکیش پنڈیتا کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال علاقے میں قتل کردیا گیا۔ 23 جون کو حبہ کدل کے رہائشی عمر احمد کو اس کے علاقے میں مسلح افراد نے قتل کر دیا۔

    ایس پی او فیاض احمد اپنی اہلیہ راجہ بیگم اور بیٹی رفیعہ جان کے ساتھ 27 جون کو ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ کے علاقے ہری پیری گام میں قتل کر دیئے گئے۔ 23 جولائی کو ترال کے گاؤں لورگام کے 35 سالہ جاوید احمد ملک، محکمہ تعلیم کے ایک ملازم کو اس کی رہائش گاہ کے قریب ایک بندوق بردار نے قتل کردیا۔ 27 جولائی کو صفہا کدل کا رہائشی مہران علی پٹھان جو کہ مقامی گروہ کا حصہ بتایا جاتا ہے، سری نگر کے علاقے نوا کدل میں مارا گیا۔ 09 اگست کو ریناواڑی کلگام سے تعلق رکھنے والے غلام رسول ڈار اور ان کی بیوی جواہرہ بیگم کو لال چوک سری نگر میں ان کے کرائے کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا۔

    بی جے پی سے وابستہ سیاسی کارکن جاوید ڈار کو 17 اگست کو ضلع کولگام کے علاقے برازلو میں ان کی رہائش گاہ کے قریب قتل کردیا گیا۔ 19 اگست کو اپنی پارٹی سے وابستہ غلام حسن لون کو ضلع کولگام کے دیوسار علاقے میں ان کی رہائش گاہ کے قریب قتل کردیا گیا۔ 18 ستمبرکو ایک غیر مقامی مزدور کی شناخت شنکر کمار چوہدری کے نام سے ہوئی جو پریت نگر کٹھیار، کا رہنے والا تھا، جسے کولگام کے علاقے نہامہ میں مسلح افراد نے قتل کردیا۔ 02 اکتوبر کو ماجد احمد گوجری جو کہ چٹبل سری نگر کا رہائشی تھا، سری نگر کے علاقے کرن نگر میں جبکہ محمد شفیع ڈار بٹمالو کا رہائشی تھا اس کے علاقے میں مارا گیا۔

    معروف کیمسٹ ڈاکٹر بندرو لال کا 05 اکتوبر کو، وریندر پاسوان ایک غیر مقامی چھاپڑی فروش اور محمد شفیع لون صدر سومو ایسوسی ایشن نیدخئی اقبال پارک ایریا، لال بازار اور شاہ گنڈ حاجن بانڈی پورہ علاقے میں مارے گئے۔ کشمیر گھاٹی میں مسلسل دہشت گرد بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ گزشتہ شام 3 بے گناہوں کو سرے عام قتل کردیا گیا، اس کے بعد جموں وکشمیر ایل جی انتظامیہ نے اس واقعہ کی سخت  الفاظوں میں مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ تمام سیاستی جماعتیں کشمیری پنڈت، عام لوگ مذمت کر رہے ہیں۔ جموں کے کئی علاقوں میں  احتجاج بھی کیا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ جلد از جلد ان کے قاتلوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جائے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: