உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: پیدائش کے محض چار دن بعد بچی کا اغوا، سری نگر پولیس نے 25 دن بعد بچی کو کیا بازیاب

    جموں وکشمیر: پیدائش کے محض چار دن بعد بچی کا اغوا، سری نگر پولیس نے 25 دن بعد بچی کو کیا بازیاب

    جموں وکشمیر: پیدائش کے محض چار دن بعد بچی کا اغوا، سری نگر پولیس نے 25 دن بعد بچی کو کیا بازیاب

    جموں وکشمیرکی سری نگر پولیس نے 11 اگست کو اغوا کی گئی ایک بچی کو آج بازیاب کیا اور اس کی ماں کے حوالے کیا۔ معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے ایس پی مشرقی سری نگر تنوشری نے بتایا کہ ایک بچی کو پیدائش کے صرف چار دن بعد اپنے ہی اہل خانہ نے ماں سے چھین لیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر کی سری نگر پولیس نے 11 اگست کو اغوا کی گئی ایک بچی
    کو آج بازیاب کیا اور اس کی ماں کے حوالے کیا۔ معاملے کی جانکاری دیتے ہوئے ایس پی مشرقی سری نگر تنوشری نے بتایا کہ ایک بچی کو پیدائش کے صرف چار دن بعد اپنے ہی اہل خانہ نے ماں سے چھین لیا۔ پولیس نے عدالت عالیہ کی ہدایت پر آج اسے بازیاب کیا۔

    پولیس نے اس کیس میں پانچ افراد کو گرفتارکیا۔ پولیس اسٹیشن نشاط سری نگر میں معاملے کی مزید جانچ جاری ہے۔ پولیس کے مطابق انھوں نے بچی کی تلاش میں کشمیر کے تمام اضلاع میں چھاپے مارے اور 20 سے زائد گھروں کی تلاشی لی۔ ایس پی ایسٹ تنوشری نے کہا کہ محض چار دن کی بچی کو اپنی ماں سے جُدا کرکے لے جانا ایک گھناونا جُرم ہے اور اس میں بچی کے والد اور دادی کے علاوہ دو اور رشتہ دار اور ایک گھریلو ملازمہ شامل ہے۔ گزشتہ 31 اگست کو جموں کشمیر اورلداخ ہائی کورٹ نے پولیس کو اغوا شدہ بچی فوری طور بازیاب کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    اس معاملہ میں پولیس کو بھی خِفت اٹھانی پڑی کیونکہ عدالت عالیہ نے بچی کی بازیابی میں ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ایس پی ایسٹ تنوشری نے کہا کہ بچی کی ماں کے سُسرال والوں نے پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور بیچ میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سہولیات بند رہنےکی وجہ سے بھی انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آج آخرکار انھوں نے سری نگر سے بچی کو بازیاب کیا اور پانچ افراد کو گرفتار کیا۔

    پولیس کو یہ معاملہ گھریلو جھگڑے کا لگ رہا تھا، لیکن اغوا کاری کے عمل نے اسے سنگین جُرم بنا دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر اپنے ہی گھر والوں نے بچی کو اغوا کیوں کیا تو انھوں نے بس اتنا کہا کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ اس کی ماں اس کی پرورش نہیں کرسکتی، لیکن ایس پی تنوشری کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچی کو ماں سے جدا کرنا سنگین معاملہ ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: