உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: بارہمولہ گرنیڈ حملہ میں جاں بحق رنجیت سنگھ کی آخری رسومات ادا، مقتول کی بیٹی نے دہشت گردوں سے پوچھا یہ بڑا سوال

    J&K News: بارہمولہ گرنیڈ حملہ میں جاں بحق رنجیت سنگھ کی آخری رسومات ادا، مقتول کی بیٹی نے دہشت گردوں سے پوچھا یہ بڑا سوال

    J&K News: بارہمولہ گرنیڈ حملہ میں جاں بحق رنجیت سنگھ کی آخری رسومات ادا، مقتول کی بیٹی نے دہشت گردوں سے پوچھا یہ بڑا سوال

    Jammu and Kashmir : اپنے والد کی موت کے غم سے نڈھال پرینکا دیوی نے کہا کہ والد لگ بھگ تین ہفتے قبل ہی اس دکان پر نوکری کرنے کے لیے بارہمولہ چلے گئے تھے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرسکیں تاہم روزگار کمانے کی اس کشمکش میں ان کے والد اپنی زندگی گنواں چکے ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : راجوری ضلع کاباکھر گاؤں ماتم کدے میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس  وجہ یہ ہے کہ بارہمولہ ضلع میں سترہ مئی کی شام کو دہشت گردوں کے گرنیڈ حملے میں اس گاؤں کے ایک مقامی باشندہ رنجیت سنگھ کی موت ہوگئی تھی۔ رنجیت سنگھ کل شام بارہمولہ قصبے میں دہشت گردوں کی جانب سے شراب کی ایک دکان پر پھینکے گئے گرنیڈ حملے میں شراب کی دکان پر نوکری کرنے والے دیگر تین ساتھیوں سمیت شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ انہیں فوری طور پر بارہمولہ ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ رنجیت سنگھ کی موت کی خبر جب ان کے آبائی گاؤں باکھر پہنچی تو پورے گاؤں میں غم وغصے کی شدید لہر دوڑ گئی۔

    مقتول کے اہل خانہ اور گاؤں کے دیگر افراد نے آج صبح باکھر کے مقام پر جموں پونچھ شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ یہ لوگ اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ رنجیت سنگھ کی چار دختران اور چار سال کی عمر کے ان کا معصوم بیٹا بھی احتجاجیوں میں شامل تھے۔ اپنے والد کی موت کے غم سے نڈھال پرینکا دیوی نے کہا کہ والد لگ بھگ تین ہفتے قبل ہی اس دکان پر نوکری کرنے کے لیے بارہمولہ چلے گئے تھے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرسکیں تاہم روزگار کمانے کی اس کشمکش میں ان کے والد اپنی زندگی گنواں چکے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیری پنڈتوں کے احتجاج کو قرار دیا جائز، کہی یہ بڑی بات


    نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " ہمارے پاپا کچھ دن پہلے ہی کام کے سلسلے میں بارہمولہ گئے تھے اور ہمیں یہ امید تھی کہ وہ وہاں کام کرکے کچھ پیسہ کمائیں گے تاکہ ہماری مالی حالت بہتر ہوسکے۔ میں نے کل صبح ہی ان سے فون پر بات کی اور وہ اپنے کام سے خوش لگ رہے تھے۔ شام کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ بارہمولہ قصبے میں گرنیڈ حملہ ہوا ہے، ہم سب لوگ فکر مند ہوگئے یہ معلوم ہونے پر کہ پاپا بھی اس حملے میں زخمی ہوچکے ہیں۔ ہمارے گھر کے ساتھ ساتھ پڑوسی بھی پریشان ہوگئے کچھ وقت گزر جانے کے بعد ہی پاپا کے موت کی خبر جیسے ہی ہم تک پہنچی ایسا لگا کہ ہمارے سارے سپنے چور چور ہوگئے ہیں۔ میں ان دہشت گردوں سے جنہوں نے یہ حملہ انجام دیا ایک ہی سوال کرتی ہوں کہ انہوں نے میرے پاپا کا قتل کیوں کیا وہ روزگار کمانے کے لئے اس دکان پر کام کرنے کے لیے گئے تھے۔ ان کے وہاں نوکری کرنے سے دہشت گردوں کو کس طرح کا نقصان ہوا کہ انہوں نے میرے پاپا کا قتل کردیا۔ اب ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم آگے کی زندگی کیسے بسر کر پائیں گے وہی ہمارے لئے کماتے تھے اب ہمارا کوئی سہارا نہیں"۔

    احتجاج میں شامل لوگوں نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ مقتول رنجیت سنگھ کے غریب خاندان کی مالی معاونت کرے اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری فراہم کی جائے۔ رام چند نامی ایک احتجاجی نے کہا کہ " چونکہ یہ ایک غریب خاندان ہے لہٰذا ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقتول کے لواحقین کو مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بڑی بیٹی کو سرکاری نوکری فراہم کرے تاکہ یہ کنبہ زندگی کے اپنے سفر کو آگے بڑھا سکے"۔

     

    یہ بھی پڑھئے: Gyanvapi Masjid: محبوبہ مفتی نے کہا: ہماری جن جن مسجدوں پر نظر ہے ان کی فہرست دیدو


    گاؤں کے سرپنچ رمیش چب نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایل جی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اس کنبے کی مالی مدد کرے ، کیونکہ یہ لوگ انتہائی غریب ہیں اور ان کا واحد کماؤ فرد بھی اب اس دنیا میں نہیں رہا"۔ میں ایل جی منوج سنہا سے اپیل کرتا ہوں کہ مرحوم رنجیت سنگھ کے لواحقین کو پچیس لاکھ روپے کی مالی مدد فراہم کی جائے اور ان کی دختر پرینکا دیوی کو سرکاری نوکری فراہم کی جائے تاکہ یہ لوگ اپنے زندگی کو بہتر طور پر گزار سکیں"۔

    واضح رہے کہ مقتول رنجیت سنگھ کی آخری رسومات آج بعد دوپہر ان کے آبائی گاؤں باکھرہ میں ادا کی گئیں، جہاں ہزاروں لوگوں نے پرنم آنکھوں سے ان کو آخری الوداع کہا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: