உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گورنمنٹ ڈگری کالج کلگام کے BCA طلبا نے Sukoon E Kashmir کے نام سے بناڈالی نئی ایپ

    سوشل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی میں بہتر خدمات پیش کرنے کا ‍ عزم ، ایپ بنانے پر مل رہی ہے پذیرائی

    سوشل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجی میں بہتر خدمات پیش کرنے کا ‍ عزم ، ایپ بنانے پر مل رہی ہے پذیرائی

    اس ایپ Sukoon E Kashmir کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کشمیری زبان کے فروغ کے لیے ایک خاص سیکشن متعارف کرایا گیا ہے تاکہ کشمیری زبان پر نہ صرف کام کیا جائے بلکہ اسے فروغ دینے کے لیے کام کیا جائے ۔

    • Share this:
    کولگام :  وادی کشمیر کے طلباء ہُنر اور قابلیت سے لبریز ہیں اور اس کی مثال گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام میں دیکھنے کو ملی جہاں طلباء نے "سکونِ کشمیر"  Sukoon E Kashmir   نامی شارٹ ویڈیو ایپ بنا ڈالی جس کو استمعال میں لایا جا رہا ہے۔  گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام کے شعبہ Bachlor of Computer Science کے طلباء نے یہاں کی فیکلٹی کے اشتراک سے ایک شارٹ ویڈیو ایپ بنادی ہے جس کو ترتیب دینے کے علاوہ Play store پر دستیاب رکھا گیا ہے۔

      اس ایپ  Sukoon E Kashmir  کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کشمیری  زبان کے فروغ کے لیے ایک خاص سیکشن متعارف کرایا گیا ہے تاکہ کشمیری زبان پر نہ صرف کام کیا جائے بلکہ اسے فروغ دینے کے لیے کام کیا جائے ۔ شعبہ بی سی اے BCA   کے ٢ طلباء نے اپنی فیکلٹی کی سربراہی میں اس ایپ کو تشکیل دیا ہے جسے کافی استمعال کیا جارہا ہے۔ ایپ بنانے والے طلباء کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگ میل ہے اور اس انہیں مزید کچھ کرنے کے لیے راہ ہموار ہو گئ ہے جبکہ وہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے لیے مزید  کچھ کرنے کے لیے کام کریں گے۔


    کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر نظیر احمد سمنانی اور پورے اسٹاف نے اس کوشش کی سراہنا کی ہے جبکہ فیکلٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ آیندہ دنوں میں نہ صرف ایپ کو مزید  بہتر بنایا جائے  گا بلکہ مزید  پراجکٹوں پر طلباء کام کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ طلباء اور اسٹاف ایپ کو خوش آیندہ قرار دے رہے ہیں۔ 

    شعبہ بی سی اے کے اسسٹنٹ پروفیسر  ارشاد احمد نے طلبا ء کے لیے نیک خواہشات پیش کی اور ان کی مزید  رہنمائی کی بات کی۔   گاؤں دیہات میں قائم تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء میں قابلیت اور ہنر کی کمی نہیں ہے بس انہیں تلاش ہے ایک موقعہ کی اور انہیں رہنمائی کی ضرورت ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: