ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: وزیر اعظم مودی کی میٹنگ سے قبل کانگریس نے کہا- ابھی آرٹیکل 370 پر بات نہیں

کانگریس کے ریاستی صدر (Congress leader) غلام احمد میر (Ghulam Ahmad Mir) نے کہا، ہم جانتے ہیں کہ 5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir)کو نیچا دکھانے اور اسے تقسیم کرنے کا جو فیصلہ مرکزی حکومت کی طرف سے لیا گیا تھا، اس کے بعد سے ریاست میں بحران میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: وزیر اعظم مودی کی میٹنگ سے قبل کانگریس نے کہا- ابھی آرٹیکل 370 پر بات نہیں
وزیر اعظم مودی کی میٹنگ سے قبل کانگریس نے کہا- ابھی آرٹیکل 370 پر بات نہیں

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کی صدارت میں آج جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی کل جماعتی میٹنگ سے ٹھیک پہلے جموں وکشمیر کی کانگریس یونٹ کے صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ وہ اس میٹنگ میں آرٹیکل 370 کا معاملہ نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’ہم جانتے ہیں کہ 5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر کو نیچا دکھانے اور اسے تقسیم کرنے کا جو فیصلہ مرکزی حکومت کی طرف سے لیا گیا تھا، اس کے بعد سے ریاست میں بحران میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگ کم ازکم ریاست کا درجہ چاہتے ہیں اور کانگریس پارٹی میٹنگ میں اس سے کم پر نہیں مانے گی‘۔


وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اب سے کچھ دیر بعد ہونے والی میٹنگ میں غلام احمد میر کانگریس پارٹی کے ان 3 لیڈروں میں شامل ہیں، جنہیں مرکزی حکومت کی طرف سے دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی طرف سے جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد بھی اس میٹنگ میں شامل ہوں گے۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے لئے جموں وکشمیر کے 8 سیاسی جماعتوں کے 14 لیڈروں کو دعوت دی گئی ہے۔ میٹنگ سے پہلے ہی گپکار لیڈروں نے واضح کردیا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 پر کسی بھی طرح کا کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔




میٹنگ کو لے کر جس طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، ان میں حد بندی پر تبادلہ خیال سب سے اوپر معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ مرکز کے زیر انتظام ریاست کو مکمل ریاست کا درجہ دیئے جانے کو لے کر بھی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔ اس مسئلے پر کچھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ریاست کا درجہ دیئے جانے کی بات کرنا ابھی جلد بازی ہوگی۔ واضح رہے کہ میٹنگ سے ٹھیک پہلے حد بندی کمیشن کے ذریعہ مرکز کے زیر انتظام ریاست کے 20 اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے کئی طرح کی تفصیلات طلب کی جاچکی ہیں۔

واضح رہے کہ حد بندی کمیشن کی تشکیل فروری 2020 میں کی گئی تھی اور اسے اس سال مارچ میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے۔ حد بندی کمیشن کو اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی سرحدوں کو نشان زد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اگر جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کرانے ہیں تو ان سبھی عمل کو مکمل کرنا ضروری ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 24, 2021 03:31 PM IST