ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

دھوکہ بازوں سے رہیں ہوشیار، بازار میں بیچا جارہا ہے غیر موثرفلو ویکسین

معروف پلمونالوجسٹ ڈاکٹر پرویزکول نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ فلو ویکسین کرہ ارض کے دو خطوں یعنی نصف کرہ شمالی اور نصف کرہ جنوبی میں آباد ممالک کے لئے الگ الگ بنتا ہے اور اس میں موجود ادویات میں بھی فرق ہے۔

  • Share this:
دھوکہ بازوں سے رہیں ہوشیار، بازار میں بیچا جارہا ہے غیر موثرفلو ویکسین
دھوکہ بازوں سے رہیں ہوشیار، بازار میں بیچا جارہا ہے غیر موثرفلو ویکسین۔ فائل فوٹو

سری نگر: موسم سرما آتے ہی ہندوستان اور نصف کرہ شمالی یعنی ناردارن ہیمی سفیر کے ممالک میں فلو سے بچنے کے لئے لاکھوں لوگ فلو کا ٹیکہ لگاتے ہیں، لیکن اس بار ماہرین کے مطابق کچھ لالچی لوگ کئی جگہوں پر وہ ویکسین بازار میں لائے ہیں، جو کرہ ارض کے اس خطہ کےلئے موافق نہیں۔ معروف پلمونالوجسٹ ڈاکٹر پرویزکول نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ فلو ویکسین کرہ ارض کے دو خطوں یعنی نصف کرہ شمالی اور نصف کرہ جنوبی میں آباد ممالک کے لئے الگ الگ بنتا ہے اور اس میں موجود ادویات میں بھی فرق ہے۔ ساودرن ہیمی سفیر یعنی نصف کرہ جنوبی میں سرما نکل چکا ہے اور وہاں فلوکا سیزن بھی ختم ہوچکا ہے، اس کے سبب وہاں پر بچے کچھے فلو ویکسین کچھ لالچی ادویات تاجروں نے سستے داموں پر خرید کر ہندوستان کے بازاروں میں لائے ہیں۔


ڈاکٹر کول کہتے ہیں کہ نصف کرہ جنوبی کےلئے بنائی گئی یہ ویکسین یہاں کوئی فایدہ نہیں دے گی، لہٰذا لوگوں کو

فلو ویکسین خریدتے وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ ویکسین پر این ایچ لکھا ہو اور اس کی معیاد 2021 تک ہونی چاہئے۔ کشمیر میں کئی لوگ اس مافیا کے شکار ہوچکے ہیں۔ سستے داموں پر فلو ویکسین ملنے کا لالچ دے کر یہ دھوکہ باز عام لوگوں

کو ساودرن ہیمی سفیر کا ویکسین تھما دیتے ہیں اور خوب منافع کماتے ہیں۔ سری نگر کے ایک انجنئیر نے نیوز 18 اردو

کو بتایا کہ ان کے 12 رشتہ داروں نے یہ غیر موثر ویکسین خریدی اور اب پچھتا رہے ہیں۔

ڈاکٹر پرویز کول کہتے ہیں کہ ہم جس خطہ ارض پر رہتے ہیں وہاں پر ایس ایچ یعنی ساودرن ہیمی سفیرکی ویکسین کوئی فایدہ نہیں دے گی۔ کیونکہ یہ ویکسین شمالی خطہ میں موجود فلو وائرس کے لئے نہیں بنائی گئی ہے۔ اس بارچونکہ کووڈ پہلے سے موجود ہے، تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ فلو ویکسین کا ٹیکہ لگوانا زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ خاص طور پر بچوں، ذیابطیس اور دیگر ایسے امراض میں مبتلا افراد اور حاملہ خواتین کے لئے یہ زیادہ ضروری ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 14, 2020 02:07 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading